Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nahl 16:119

16:119
ثم ان ربك للذين عملوا السوء بجهالة ثم تابوا من بعد ذالك واصلحوا ان ربك من بعدها لغفور رحيم ١١٩
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَـٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌ ١١٩
ثُمَّ
إِنَّ
رَبَّكَ
لِلَّذِينَ
عَمِلُواْ
ٱلسُّوٓءَ
بِجَهَٰلَةٖ
ثُمَّ
تَابُواْ
مِنۢ
بَعۡدِ
ذَٰلِكَ
وَأَصۡلَحُوٓاْ
إِنَّ
رَبَّكَ
مِنۢ
بَعۡدِهَا
لَغَفُورٞ
رَّحِيمٌ
١١٩
無知のために悪を行ったが,その後に,悔い改めてその身を修める者に対し,あなたの主は,その後は本当に寛容にして慈悲深くあられる。

— Ryoichi Mita

Nhưng đối với những ai vì thiếu hiểu biết mà làm điều sai trái và sau đó biết ăn năn sửa chữa bản thân thì quả thật Thượng Đế của Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) sau lần sai phạm đó hằng tha thứ, hằng khoan dung.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 16:118 đến 16:119
دوسروں سے منسوب ہر چیز حرام ہے ٭٭

اوپر بیان گزرا کہ اس امت پر مردار، خون، لحم، خنزیر اور اللہ کے سوا دوسروں کے نام سے منسوب کردہ چیزیں حرام ہیں۔ پھر جو رخصت اس بارے میں تھی اسے ظاہر فرما کر جو آسانی اس امت پر کی گئی ہے اسے بیان فرمایا۔

یہودیوں پر ان کی شریعت میں جو حرام تھا اور جو تنگ اور حرج ان پر تھا اسے بیان فرما رہا ہے کہ ” ہم نے ان کی حرمت کی چیزوں کو پہلے ہی سے تجھے بتا دیا ہے “۔ سورۃ الانعام کی آیت «عَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا» [6-الأنعام:146] ‏ میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہو چکا ہے۔ یعنی ” یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانوروں کو حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری کی چربی کو سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں پر یا ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو، یہ بدلہ تھا ان کی سرکشی کا ہم اپنے فرمان میں بالکل سچے ہیں۔ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا ہاں وہ خود نا انصاف تھے “۔

«فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ كَثِيرًا» [ 4-النساء: 160 ] ‏ ” ان کے ظلم کی وجہ سے ہم نے وہ پاکیزہ چیزیں جو ان پر حلال تھیں، حرام کر دیں دوسری وجہ ان کا راہ حق سے اوروں کو روکنا بھی تھا “۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے اس رحم و کرم کی خبر دیتا ہے جو وہ گنہگار مومنوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ادھر اس نے توبہ کی، ادھر رحمت کی گود اس کے لیے پھیل گئی۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جاہل ہی ہوتا ہے۔ توبہ کہتے ہیں گناہ سے ہٹ جانے کو اور اصلاح کہتے ہیں اطاعت پر کمر کس لینے کو پس جو ایسا کرے اس کے گناہ اور اس کی لغزش کے بعد بھی اللہ اسے بخش دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر4550