Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nahl 16:66

16:66
وان لكم في الانعام لعبرة نسقيكم مما في بطونه من بين فرث ودم لبنا خالصا سايغا للشاربين ٦٦
وَإِنَّ لَكُمْ فِى ٱلْأَنْعَـٰمِ لَعِبْرَةًۭ ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِى بُطُونِهِۦ مِنۢ بَيْنِ فَرْثٍۢ وَدَمٍۢ لَّبَنًا خَالِصًۭا سَآئِغًۭا لِّلشَّـٰرِبِينَ ٦٦
وَإِنَّ
لَكُمۡ
فِي
ٱلۡأَنۡعَٰمِ
لَعِبۡرَةٗۖ
نُّسۡقِيكُم
مِّمَّا
فِي
بُطُونِهِۦ
مِنۢ
بَيۡنِ
فَرۡثٖ
وَدَمٖ
لَّبَنًا
خَالِصٗا
سَآئِغٗا
لِّلشَّٰرِبِينَ
٦٦
また家畜にもあなたがたへの教訓がある。われはその腹の中の雑物と血液の間から,あなたがたに飲料を与える。(その)乳は飲む者にとり,清らかであり(喉に)快適である。

— Ryoichi Mita

Chắc chắn có một bài học dành cho các ngươi ở nơi gia súc: TA ban nguồn thức uống cho các ngươi từ trong bụng của chúng, nằm giữa phân và máu, một nguồn sữa tươi tinh khiết, tạo cảm giác ngon miệng cho người uống.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 16:66 đến 16:67

دودھ دینے والے جانوروں میں یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ جو کچھ کھاتے ہیں وہ ایک طرف ان کے اندر گوبر اور خون بناتا ہے، دوسری طرف اسی کے درمیان سے دودھ جیسا قیمتی سیال بھی بن کر نکلتاہے جو انسان کے لیے بے حد قیمتی غذا ہے۔ یہی حال درختوں کا ہے۔ ان کے اندر مٹی اور پانی جیسی چیزیں داخل ہوتی ہیں اور پھر ان کے اندرونی نظام کے تحت وہ رس دار پھل کی صورت میں شاخوں میں لٹک پڑتی ہیں۔

یہ واقعات اس لیے ہیں کہ وہ لوگوں کو خدا کی یاد دلائیں۔ آدمی اس میں خدا کی قدرت کی جھلکیاں دیکھنے لگے، حتی کہ اس کا یہ احساس اتنا بڑھے کہ وہ پکار اٹھے کہ خدایا تو جو گوبر اور خون کے درمیان سے دودھ جیسی چیز نکالتا ہے، میرے ناموافق حالات کے اندر سے موافق نتائج ظاہر کردے۔ تو جو مٹی اور پانی کو پھل میں تبدیل کردیتاہے، میری بے قیمت زندگی کو باقیمت زندگی بنا دے۔

’’تم ان سے نشہ کی چیز بھی بناتے ہو اور رزقِ حسن بھی‘‘۔ ا س میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں خدا نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کا صحیح استعمال بھی ہے اور ان کا غلط استعمال بھی۔ کھجور اور انگور کو ا س کی قدرتی صورت میں کھایا جائے تو وہ صحت بخش غذا ہے جس سے جسم اور عقل کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر انسانی عمل سے اس کو نشہ میں تبدیل کردیا جائے تو وہ جسم کو بھی نقصان پہنچاتی ہے اور عقل کو بھی بگاڑدینے والی ہے۔