Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nahl 16:79

16:79
الم يروا الى الطير مسخرات في جو السماء ما يمسكهن الا الله ان في ذالك لايات لقوم يومنون ٧٩
أَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلطَّيْرِ مُسَخَّرَٰتٍۢ فِى جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ٧٩
أَلَمۡ
يَرَوۡاْ
إِلَى
ٱلطَّيۡرِ
مُسَخَّرَٰتٖ
فِي
جَوِّ
ٱلسَّمَآءِ
مَا
يُمۡسِكُهُنَّ
إِلَّا
ٱللَّهُۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكَ
لَأٓيَٰتٖ
لِّقَوۡمٖ
يُؤۡمِنُونَ
٧٩
かれらは,天空で(アッラーヘの意に)服して飛ぶ鳥を見ないのか。アッラー(の御力)の外に,かれらを支えるものはないのである。本当にこの中には,信仰する者への種々の印がある 。

— Ryoichi Mita

Lẽ nào (Những kẻ đa thần) không nhìn thấy những con chim đang bay lượn trong bầu trời? Không một thế lực nào (đủ khả năng) giữ cho chúng (không bị rơi xuống) ngoại trừ Allah! Quả thật, trong sự việc đó là các dấu hiệu dành cho đám người có đức tin.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 16:79 đến 16:80

پرندے زمین و آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔ یہ اسی میں اڑتے پھرتے ہیں ، ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ منظر ہم بار بار دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے اس کے اندر جو عجوبہ ہے ، وہ غیر محسوس ہوگیا ہے۔ اس کی طرف انسان کا دل و دماغ تب توجہ کرتا ہے جب وہ جاگنے والا ہو ، اور اس کو شاعرانہ قوت مشاہدہ دی گئی ہو۔ ایک شاعرانہ ظرف نگاہی رکھنے والا شخص تو اس پر ایک نظم اور قصیدہ لکھ سکتا ہے اور وہ بےساختہ اس قدیم ، مالوف اور جدید شاعرانہ منظر کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے۔

یا یمسکھن الا اللہ (61 : 97) ” اللہ کے سوا کس نے انہیں تھام رکھا ہے “۔ یہ کس طرح ، پرندوں کی فطرت ہی ایسے اصولوں پر وضع کی گئی ، اس کے ارد گرد فضائی حالات اللہ نے ایسے بنائے کہ اس میں وہ اڑ سکیں اور زمین پر کسی بھی وقت نہ گریں۔

ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (61 : 97) ” اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ ایک قلب مومن اس کائنات کی عجائبات پر اسی طرح نظر دوڑاتا ہے جس طرح شاعر کسی چیز کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا شعور اور اس کا ضمیر ان مخلوقات کے حسن اور کمال کو محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے احساس کی تعبیر نہایت ہی خوبصورتی سے کرتا ہے۔ ایمان کی شکل میں ، اللہ کی بندگی کی شکل میں اور اللہ کی ثنا اور تسبیح کی شکل میں۔ اہل ایمان میں سے اللہ نے جن لوگوں کو قادر الکلامی دی ہے ، وہ اللہ کی ان تخلیقات میں عجیب و غریب پہلو دیکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ ایسے مومنین کی تخلیقات اس قدر گہری ہوتی ہیں کہ عام شاعر کی اس مقام تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔