Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nahl 16:91

16:91
واوفوا بعهد الله اذا عاهدتم ولا تنقضوا الايمان بعد توكيدها وقد جعلتم الله عليكم كفيلا ان الله يعلم ما تفعلون ٩١
وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ إِذَا عَـٰهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا۟ ٱلْأَيْمَـٰنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ ٱللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ٩١
وَأَوۡفُواْ
بِعَهۡدِ
ٱللَّهِ
إِذَا
عَٰهَدتُّمۡ
وَلَا
تَنقُضُواْ
ٱلۡأَيۡمَٰنَ
بَعۡدَ
تَوۡكِيدِهَا
وَقَدۡ
جَعَلۡتُمُ
ٱللَّهَ
عَلَيۡكُمۡ
كَفِيلًاۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
يَعۡلَمُ
مَا
تَفۡعَلُونَ
٩١
あなたがたがアッラーと約束を結んだ時は,誓約を成し遂げなさい。誓いを確証した後,それを破ってはならない。あなたがたはアッラーを,はっきり立証者としたのである。本当にアッラーは,あなたがたの行うことを知っておられる。

— Ryoichi Mita

(Hỡi những người có đức tin!) Các ngươi hãy thực hiện giao ước với Allah khi các ngươi đã cam kết với Ngài, các ngươi chớ đừng vi phạm lời thề của các ngươi sau khi các ngươi đã trịnh trọng (nhân danh Allah). Quả thật, Allah biết mọi việc các ngươi làm.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 16:91 đến 16:92

سوت کاتنا محنت کے ذریعہ بکھرے ہوئے ریشوں کا یکجا کرنا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ انسان کے لیے کار آمد چیزیں تیا رہوں۔ اب اگر کوئی مرد یا عورت دن بھر محنت کرکے سوت کاتے اور پھر شام کے وقت اپنے کاتے ہوئے سوت کو پارہ پارہ کردے تو اس کی ساری محنت بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔

یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو آپس میں ایک معاہدہ کریں اور پھر ایک یا دوسرا فریق کسی معقول سبب کے بغیر اس کو توڑ ڈالے۔ کاتے ہوئے سوت کو خواہ مخواہ بکھیرنا اپنی محنت کو اکارت کرنا ہے۔ اسی طرح کيے ہوئے معاہدے کو توڑڈالنا اس پورے عمل کو باطل کرنا ہے جس کے نتیجے میں باہمی اتفاق کا ایک معاملہ وجود میں آیا تھا۔

موجودہ دنیا میں ایک آدمی دوسرے آدمیوں کے ساتھ مل کر زندگی گزارتا ہے۔ ہر آدمی کو اپنا کام دوسرے بہت سے آدمیوں کے درمیان کرنا ہوتاہے۔ اس بنا پر اجتماعی زندگی میں باہمی اعتماد کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اسی اجتماعی زندگی کو قائم کرنے کی خاطر بار بار ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان معاہدے اور قول وقرار وجود میں آتے ہیں، کبھی قسم کھا کر اور کبھی قسم کے بغیر۔ اب اگر لوگ ایسا کریں کہ معاہدوں کو حقیقی جواز کے بغیر توڑ ڈالیں تو اجتماعی زندگی میں فساد پھیل جائے اور کسی قسم کی تعمیر ممکن نہ رہے۔

خدا کے نام پر معاہدہ کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ باقاعدہ قسم کے الفاظ اداکرکے کسی سے کوئی عہد کیاجائے۔ دوسري یہ کہ قسم کے الفاظ نہ بولے جائیں تاہم جو معاہدہ کیا گیا ہے اس میں خدا کا حوالہ بھی کسی پہلو سے شامل ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں عہد کرنے والے گویا خدا کو اس معاملہ کا گواہ یا ضامن بناتے ہیں۔ ایسے معاہدے جن میں خدا کا نام شامل کیا گیا ہو ان کو توڑنا اور بھی زیادہ برا ہے، کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کو دوسروں کے اوپراپنا اعتبار قائم کرنا تھا تو اس نے خدا کے نام کو استعمال کیااور جب اس پر نفس یا مفاد کے تقاضے غالب آئے تو اس نے خدا کو نظر انداز کردیا۔

افراد یا قوموں کے درمیان جو معاہدے ہوتے ہیں ان کی دوصورتیںهيں ۔ ایک یہ کہ وہ اصولوں کے تابع ہوں۔ دوسري یہ کہ وہ مفادات کے تابع ہوں۔ قدیم زمانے میں اور آج بھی عام حالت یہ ہے کہ جب معاہدہ کرنے میں کوئی فائدہ نظر آیا تو معاہدہ کرلیا ۔ اور جب توڑنا مفید معلوم ہوا تو اس کو توڑ دیا۔ اس کے برعکس، اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ معاہدات کو شرعی اور اخلاقی اصولوں کے تابع رکھا جائے۔