Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nahl 16:94

16:94
ولا تتخذوا ايمانكم دخلا بينكم فتزل قدم بعد ثبوتها وتذوقوا السوء بما صددتم عن سبيل الله ولكم عذاب عظيم ٩٤
وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ أَيْمَـٰنَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ ٩٤
وَلَا
تَتَّخِذُوٓاْ
أَيۡمَٰنَكُمۡ
دَخَلَۢا
بَيۡنَكُمۡ
فَتَزِلَّ
قَدَمُۢ
بَعۡدَ
ثُبُوتِهَا
وَتَذُوقُواْ
ٱلسُّوٓءَ
بِمَا
صَدَدتُّمۡ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
وَلَكُمۡ
عَذَابٌ
عَظِيمٞ
٩٤
あなたがたの間で,誤魔化しをするために誓いを立ててはならない。そうでないと踏み締めた足場は滑り,アッラーの道から(人びとを)背かせて,悪(い結果)を味わうことになり,あなたがたに厳しい懲罰が下るであろう。

— Ryoichi Mita

Các ngươi đừng biến những lời thề của các ngươi thành một phương tiện để lừa dối nhau. Nếu không, chân của các ngươi có thể trượt sau khi nó đã vững vàng, và các ngươi sẽ phải nếm trải hậu quả xấu (trên cõi trần này) vì cản trở mọi người đi theo con đường của Allah, và (ở Đời Sau) các ngươi sẽ phải chịu một sự trừng phạt khủng khiếp.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

تشریح : قسموں کو دھوکے اور فریب کے لئے استعمال کرنے کے نتیجے میں انسانی ضمیر سے عقیدہ مر جاتا ہے اور دوسروں کے ضمیر میں اس کی صورت بگڑ جاتی ہے۔ جو شخص قسم اٹھاتا ہے اور یہ جانے ہوئے اٹھاتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ، ایسے شخص کے دل میں کوئی عقیدہ قرار نہیں پکڑ سکتا۔ نہ ایسا شخص کسی راستے پر ثابت قدمی سے چل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جن کے خلاف قسم اٹھاتا ہے ان کی نظروں میں بھی اپنے دین و ایمان کی شکل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ دوسرا فریق جان لیتا ہے کہ اس کی یہ قسمیں دھوکے کے لئے تھیں۔ یوں یہ شخص ان لوگوں کو دین اسلام سے متنفر کرکے ان کی گمرالی کا سبب بنتا ہے کیونکہ یہ دوسرے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے ایک بری مثال قائم کرتا ہے۔

جب لوگوں نے دیکھا کہ اہل اسلام اپنے وعدے کے بہت پکے ہیں ، عہدے کے پابند ہیں ، معاملات میں صاف ہیں اور ایمان میں مخلص ہیں تو کفار جماعتوں اور اقوام کی شکل میں اسلام میں داخل ہوگئے کیونکہ وفائے عہد اور ایفائے میثاق کے نتیجے میں ان کو جو خسارہ ہوتا تھا ، اس سے فائدہ بہت زیادہ تھا۔

قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ نے مسلمانوں کا کردار تعمیر کرتے ہوئے اس پہلو سے ان کی زندگیوں پر بہت ہی اچھے نقوش چھوڑے اور انہی نقوش کے مطابق مسلمان انفرادی طور اور حکومتی سطح پر لوگوں سے معاملات کرتے رہے۔ ان کا یہ طرز عمل نہایت ہی امتیازی تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت معاویہ اور شاہ روم کے درمیان معاہدہ امن کا ایک وقت مقرر تھا۔ حضرت معاویہ نے اختتام اجل سے پہلے ہی شاہ شام کے خلاف لشکر کشی کردی جبکہ ان کو معلوم ہی نہ تھا۔ اس موقع پر حضرت عمر ابن عتبہ نے فرمایا اللہ اکبر ، یا معاویہ ، وعدے کی وفا کرو ، غداری مت کرو ، میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے ” جس شخص اور کسی قوم کے درمیان ایک میعاد امن مقرر ہو ، تو وہ اپنے اس عہد کو ہر گز حلال نہ کرے جب تک وقت گزر نہ جائے۔ چناچہ حضرت معاویہ لشکر لے کر واپس ہوگئے۔ اسلامی تاریخ ایسی روایات سے بھری پڑی ہے کہ مسلمانوں نے نقص عہد میں صریح فائدے کے باوجود عہد کا پاس رکھا اور ظاہری مصلحتوں کو چھوڑ دیا۔

قرآن کریم نے مسلمانوں کے دلوں پر یہی اسلامی رنگ چڑھا دیا تھا۔ قرآن نے وفائے عہد کی ترغیب دی ، عہد شکنی سے ڈرایا۔ حضور ﷺ نے لوگوں کو ڈرایا اور یہ قرار دیا ہے کہ فریقین ہی معاہدے کے فریق نہیں ہوتے بلکہ اللہ بھی فریق ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے یہ قرار دیا کہ عہد شکنی کی صورت میں جو نفع ہوتا ہے وہ نہایت ہی معمولی اور حقیر ہوتا ہے اور اللہ وفائے عہد پر جو اجر اور انعام دے گا وہ بہت ہی بڑا انعام ہوگا۔