Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Naml 27:10

27:10
والق عصاك فلما راها تهتز كانها جان ولى مدبرا ولم يعقب يا موسى لا تخف اني لا يخاف لدي المرسلون ١٠
وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّۭ وَلَّىٰ مُدْبِرًۭا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَـٰمُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّى لَا يَخَافُ لَدَىَّ ٱلْمُرْسَلُونَ ١٠
وَأَلۡقِ
عَصَاكَۚ
فَلَمَّا
رَءَاهَا
تَهۡتَزُّ
كَأَنَّهَا
جَآنّٞ
وَلَّىٰ
مُدۡبِرٗا
وَلَمۡ
يُعَقِّبۡۚ
يَٰمُوسَىٰ
لَا
تَخَفۡ
إِنِّي
لَا
يَخَافُ
لَدَيَّ
ٱلۡمُرۡسَلُونَ
١٠
さあ,あなたの杖を投げなさい」。ところがかれは,それが蛇のように動くのを見ると,逃げだし,後ろも見なかった。(その時,声があっていった。)「ムーサーよ,あなたは恐れてはならない。本当に使徒たる者は,われの前で恐れてはならない。

— Ryoichi Mita

“Ngươi hãy ném chiếc gậy của Ngươi xuống.” (Musa liền làm theo) nhưng khi thấy nó động đậy giống như một con rắn, Y liền bỏ chạy không dám quay lại nhìn. (TA – Allah phán bảo Y): “Hỡi Musa, Ngươi đừng hoảng sợ, bởi chưa từng có vị Thiên Sứ nào hoảng sợ trước mặt TA cả.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 27:9 đến 27:14

حضرت موسیٰ پہاڑ پر آگ کے ليے گئے تھے۔ مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ پیغمبری کے ليے بلائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کو خصوصی عطیہ دیتاہے تو اچانک اور غیر متوقع طورپر دیتاہے تاکہ وہ اس کو براہِ راست اللہ کی طرف سے سمجھے اور اس کے اندر زیادہ سے زیادہ شکر کا جذبہ پیدا ہو۔

حضرت موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) اگرچہ اس وقت کے لحاظ سے ایک مسلم قوم تھی۔ مگر اب وہ بالکل بے جان ہوچکی تھی۔ دوسری طرف انھیں فرعون جیسے جابر حکمراں کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرنا تھا۔ اس ليے اللہ تعالیٰ نے آغاز ہی میں آپ کو عصا کا معجزہ عطا فرمادیا۔ یہ عصا حضرت موسیٰ کے ليے ایک مستقل خدائی طاقت تھا۔ اس کے ذریعے سے فرعون کے مقابلہ میں 9 معجزات ظاہر ہوئے۔ بنی اسرائیل کے ليے ظاہر ہونے والے معجزات ان کے علاوہ تھے۔حضرت موسیٰ کے معجزات نے آخری حد تک آپ کی صداقت ثابت کردی تھی۔ اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آپ کا اعتراف نہیں کیا۔ اس کی وجہ ان کا ظلم اور علو تھا۔ فرعون اور اس کے ساتھی اپنی آزادی پر قید لگانے کے ليے تیار نہ تھے۔ مزید یہ کہ وہ جانتے تھے کہ موسیٰ کی بات ماننا اپنی بڑائی کی نفی کرنا ہے۔ اور کون ہے جو اپنی بڑائی کی نفی کی قیمت پر سچائی کو مانے۔