Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Naml 27:41

27:41
قال نكروا لها عرشها ننظر اتهتدي ام تكون من الذين لا يهتدون ٤١
قَالَ نَكِّرُوا۟ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِىٓ أَمْ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ ٤١
قَالَ
نَكِّرُواْ
لَهَا
عَرۡشَهَا
نَنظُرۡ
أَتَهۡتَدِيٓ
أَمۡ
تَكُونُ
مِنَ
ٱلَّذِينَ
لَا
يَهۡتَدُونَ
٤١
スライマーンは,「かの女の王座の装いを変えなさい。かの女が導かれているのか,導かれていないのかを試して見よう。」と言った。

— Ryoichi Mita

(Sulayman) bảo (các chư thần): “Các ngươi hãy cải trang ngai vương của nữ ta để xem nữ ta có nhận ra được nó hay không?”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 27:41 đến 27:44

ملکہ سبا اپنے ملک سے روانہ ہو کر بیت المقدس پہنچی۔ یہاں وہ حضرت سلیمان کے محل میں داخل ہوئی تو بالکل انجان طورپر اس کے سامنے ایک تخت لایاگیا۔ اور کہاگیا کہ دیکھو، کیا یہ تمھارا تخت ہے۔ یہ دیکھ کر وہ خدا کی قدرت پر حیران رہ گئی کہ اپنے جس تخت کو وہ مارب کے محل میں محفوظ کرکے آئی تھی وہ پراسرار طورپر ڈیڑھ ہزار میل کا فاصلہ طے کرکے بیت المقدس پہنچ گیا ہے۔

حضرت سلیمان کے محل میں داخل ہو کر ملکہ سبا ایک ایسے مقام پر پہنچی جس کا فرش صاف وشفاف شیشہ کی موٹی تختیوں سے بنایا گیا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔ ملکہ جب چلتے ہوئے یہاں پہنچی تو اس کو اچانک محسوس ہو ا کہ اس کے آگے پانی کا حوض ہے۔ اس وقت اس نے وہی کیا جو پانی میں اترنے والا ہر آدمی کرتاہے۔ یعنی اس نے غیر ارادی طور پر اپنے کپڑے اٹھاليے۔

اس طرح گویا کہ عملی تجربہ کی زبان میں اس کو بتایا گیا کہ انسان ظاہر کو دیکھ کر فریب کھا جاتاہے، مگر اصل حقیقت اکثر اس سے مختلف ہوتی ہے جو ظاہری آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے۔ آدمی ظاہری طورپر سورج اور چاند کو نمایاں دیکھ کران کی پرستش کرنے لگتاہے،حالاں کہ حقیقی خدا وہ ہے جو ان ظواہر سے آگے ہے۔

ملکہ سبا اب تک قومی روایات کے زیر اثر سورج کی پرستش کررہي تھی۔ مگر حضرت سلیمان کے قریب پہنچ کر اس نے جو کچھ سنا اور جوکچھ دیکھا اس نے اس کے ذہن سے غیر اللہ کی عظمت کا یکسر خاتمہ کردیا۔ اس نے دینِ شرک کو چھوڑ دیا اور دینِ توحید کو دل وجان سے اختیار کرلیا۔