Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Naml 27:69

27:69
قل سيروا في الارض فانظروا كيف كان عاقبة المجرمين ٦٩
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ ٦٩
قُلۡ
سِيرُواْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَٱنظُرُواْ
كَيۡفَ
كَانَ
عَٰقِبَةُ
ٱلۡمُجۡرِمِينَ
٦٩
言ってやるがいい。「地上を旅して,これら罪深い者の最後がどうであったかを見届けよ。」

— Ryoichi Mita

Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) hãy nói (với những kẻ phủ nhận sự phục sinh): “Các người hãy đi chu du khắp trái đất để nhìn xem những kẻ tội lỗi đã có kết cuộc như thế nào?”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 27:67 đến 27:69

کسی پیغمبر کے مخاطب آخرت کے مطلق منکر نہ تھے۔ بلکہ وہ اس تصورِ آخرت کے منکر تھے جس کو پیغمبر پیش کرتے تھے۔ لوگ یہ یقین کيے ہوئے تھے کہ آخرت کا مسئلہ ان کے اپنے ليے نہیں ہے بلکہ دوسروں کے ليے ہے۔ پیغمبر نے بتایا کہ آخرت تمھارے ليے بھی ویسا ہی ایک سنگین مسئلہ ہے جیسا کہ وہ دوسروں کے ليے ہے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اپنے بزرگوں سے وابستگی آخرت میں ان کے ليے نجات کا ذریعہ بن جائے گی۔ پیغمبروں نے بتایا کہ آخرت میں صرف خدا کی رحمت آدمی کے کام آئے گی، نہ کہ کسی بزرگ سے وابستگی۔

یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ آخرت کے بارے میں ایک قسم کے ذہنی الجھن میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کے بعض سر پھرے کبھی ایسے الفاظ بولتے جیسے کہ وہ آخرت کے منکر ہوں۔ مگر عام لوگوں کا حال یہ تھا کہ وہ نفسِ آخرت کا انکار نہیں کرتے تھے۔البتہ پیغمبر کے تصورِ آخرت کو ماننے میں زندگی کی آزادیاں ختم ہوتی تھیں۔ اس ليے ان کا نفس اس کو ماننے کے ليے تیار نہ تھا۔ چنانچہ اس کے جواب میں وہ ایسی باتیں کرتے تھے جیسے کہ وہ شک میں ہوں۔ اپنی اسی ذہنی کیفیت کی وجہ سے انھوںنے آخرت کے دلائل پر کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کیا۔ اس کے بارے میں وہ اندھے بہرے بنے رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قوموں کا فیصلہ کرنے کے ليے جو طاقتیں درکار ہیں وہ صرف خدائے عالم الغیب کو حاصل ہیں۔ وہ جزئی طورپر موجودہ دنیا میں بھی اپنا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ اور وہی آخرت میں کلی طورپر تمام قوموں کے اوپر اپنا فیصلہ نافذ فرمائے گا۔