Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:101

4:101
واذا ضربتم في الارض فليس عليكم جناح ان تقصروا من الصلاة ان خفتم ان يفتنكم الذين كفروا ان الكافرين كانوا لكم عدوا مبينا ١٠١
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا۟ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلْكَـٰفِرِينَ كَانُوا۟ لَكُمْ عَدُوًّۭا مُّبِينًۭا ١٠١
وَإِذَا
ضَرَبۡتُمۡ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَلَيۡسَ
عَلَيۡكُمۡ
جُنَاحٌ
أَن
تَقۡصُرُواْ
مِنَ
ٱلصَّلَوٰةِ
إِنۡ
خِفۡتُمۡ
أَن
يَفۡتِنَكُمُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوٓاْۚ
إِنَّ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
كَانُواْ
لَكُمۡ
عَدُوّٗا
مُّبِينٗا
١٠١
あなたがたが地上を旅する時,もし信仰のない者たちに,害を加えられる恐れのある時は,礼拝を短縮しても罪はない。誠に不信者は,あなたがたの公然の敵である。

— Ryoichi Mita

Khi các ngươi đi xa trên trái đất, các ngươi sẽ không bị tội cho việc các ngươi rút ngắn lễ nguyện Salah (từ bốn Rak’ah thành hai Rak’ah) vì sợ bị những kẻ vô đức tin có thể tấn công. Những kẻ vô đức tin thực sự là kẻ thù công khai của các ngươi.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

(آیت) ” نمبر 101۔

جو شخص مسافر ہو ‘ اسے اپنے رب کے ساتھ دائمی تعلق کی ضرورت ہے ‘ تاکہ اللہ اس پر سفر کی مشکلات میں آسانیاں پیدا کر دے ۔ اس کی تیاریوں میں اس کی مداد ہو ‘ سامان سفر فراہم ہو اور راستے کی مشکلات اللہ اس کے لئے آسان کر دے ۔ نماز تعلق باللہ کا موثر ترین ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشکلات اور تکالیف میں نماز سے امداد حاصل کریں ۔ جب خوف کا مقام ہو اور جب زندگی کی مشقتوں کا سامنا ہو تو حکم ہے کہ نماز سے معاونت حاصل کرو۔ (آیت) ” واستعنوا بالصبر والصلوۃ) (نماز اور صبر کے ذریعے اللہ کی امداد طلب کرو)

یہی وجہ ہے کہ سفر و جہاد کے اس موضوع کے متصلا بعد اللہ تعالیٰ نے نماز کا ذکر کیا ۔ ایسے حالات میں نماز ایک مومن کا نہایت ضروری ہتھیار ہوتی ہے ۔ اگر کسی کو راستے میں خوف اور خطرے کے حالات درپیش ہوں تو ایسے حالات میں اسے صرف اللہ کی یاد سے اطمینان ہوتا ہے ۔ جو شخص اپنے ملک کو چھوڑتا ہے اس کے لئے اللہ کی درگاہ میں پہنچ جانا ہی باعث اطمینان ہوتا ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ ہے کہ کامل نماز اور پورے رکوع اور سجود کے ساتھ نماز کی وجہ سے کبھی ہو سکتا ہے کہ ایک مومن پر دشمن حملہ آور ہوجائیں جو کہیں قریب ہی چھپے ہوں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن اسے پہچان لیں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ طویل رکوع اور سجود میں اسے پکڑ لیں ‘ چناچہ جو لوگ جہاد کے لئے نکلیں ان کے لئے جائز ہے کہ وہ خوف کے وقت نماز کو مختصر کردیں ۔

یہاں قصر کے مفہوم اور تفسیر میں ہم اسی بات کو ترجیح دیتے ہیں جسے جصاص نے لیا ہے کہ اس قصر سے مراد رکعات میں قصر نہیں ہے اس لئے کہ یہ تو مطلق مسافر کے لئے جائز ہے خواہ حالت خوف ہو یا نہ ہو ‘ بلکہ سفر میں تو قصر لازمی ہے ۔ جس طرح حضور اکرم ﷺ نے قصر فرمائی اور ہر سفر میں فرمائی اس لئے کہ سفر میں راجح اقوال کے مطابق پوری رکعات پڑھنا جائز ہی نہیں ہے ۔

لہذا یہاں حالت خوف میں قصر سے مراد بالکل دوسری ہوگی اور یہ قصر مسافر کی قصر سے مختلف ہوگی ۔ یہ قصر نماز کی کیفیت میں ہوگی مثلا رکوع ‘ سجود اور قیام میں نہایت ہی سکون سے یہ ارکان سرانجام دینے میں قصر ہوگی ۔ یوں حالت خوف میں مسافر کے لئے چلتے ہوئے ‘ سواری کی حالت میں اور صرف اشارے سے بھی نماز جائز ہوگی اور اس طرح وہ اپنے رب کے ساتھ جڑا ہوا رہے گا ۔ حالت خوف اور حالت فتنہ میں بھی وہ اس ضروری ہتھیار سے مسلح ہوگا اور دشمن کے مقابلے میں محتاج بھی ہوگا اس لئے کہ

(آیت) ” ان الکفرین کانوا لکم عدوامبینا “۔ (4 : 101) (بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں)

مسافر اور مجاہد کی نماز میں حالت خوف میں قصر کے حکم کے بعد اور اسی مناسبت سے معرکہ کارزار میں اب صلوۃ الخوف کا حکم بھی یہاں دیا جاتا ہے ۔ اس خالص فقہی حکم کے اندر بھی نفسیاتی اور تربیتی اشارات کا وافر ذخیرہ دستیاب اور موجود ہے ۔