Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:124

4:124
ومن يعمل من الصالحات من ذكر او انثى وهو مومن فاولايك يدخلون الجنة ولا يظلمون نقيرا ١٢٤
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًۭا ١٢٤
وَمَن
يَعۡمَلۡ
مِنَ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
مِن
ذَكَرٍ
أَوۡ
أُنثَىٰ
وَهُوَ
مُؤۡمِنٞ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
يَدۡخُلُونَ
ٱلۡجَنَّةَ
وَلَا
يُظۡلَمُونَ
نَقِيرٗا
١٢٤
誰でも,正しい行いに励む者は,男でも女でも信仰に堅固な者。これらは楽園に入り,少しも不当に扱われない。

— Ryoichi Mita

Người nào hành thiện, dù nam hay nữ, đồng thời là người có đức tin thì sẽ được vào Thiên Đàng, họ sẽ không bị đối xử bất công một tí nào.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 4:123 đến 4:126

خدا اور آخرت کو ماننے والے لوگ جب دنیا پرستی میں غرق ہوتے ہیں تو وہ خدا اور آخرت کا انکار کرکے ایسا نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ آخرت کے معاملہ کو رسمی عقیدہ کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں اور عملاً اپنی تمام محنتیں اور سرگرمیاں دنیا کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ دنیا کی عزت اور دنیا کے فائدہ کو سمیٹنے کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ان کو پانے کے لیے ان کے نزدیک مکمل جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ مگر آخرت کی کامیابی کو پانے کے لیے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگتی ہیں۔ کسی بزرگ کی سفارش، کسی بڑے گروہ سے وابستگی، کچھ پاک کلمات کا ورد، بس اس قسم کے سستے اعمال سے یہ امید قائم کرلی جاتی ہے کہ وہ آدمی کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائیں گے اور اس کو جنت کے پُربہار باغوں میں داخل کریں گے۔ مگر اس قسم کی خوش خیالیاں خواہ ان کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو، وہ کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں۔ اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے۔ اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہوگا ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ اللہ کے قانونِ عدل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو اللہ کے یہاں فیصلہ کی بنیاد بننے والی ہو۔

اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔ اس کی ایک تاریخی مثال ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ یہ وہ بندے ہیں جو دنیا میں اللہ کے مومن بن کررہیں۔ جو اپنے آپ کو ہمہ تن اپنے رب کی طرف یکسو کرلیں۔ جو اپنی وفاداریاں پوری طرح اللہ کے لیے خاص کردیں۔ انھوںنے دنیا میں اپنے معاملات کو اس طرح قائم کیا ہو کہ وہ ظلم اور سرکشی سے دور رہنے والے اور عدل اور تواضع کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہوں۔ چہرہ آدمی کے پورے وجود کا نمائندہ ہے۔ چہرہ خدا کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کو خدا کی طرف پھیر دے۔

اللہ تمام کائنا ت کا مالک ہے۔ اس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ نے اپنے کو غیب کے پردہ میں چھپا دیا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی خدا کو نہیں دیکھتا، وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ اگرآدمی یہ جان لے کہ انسان کے اختیار میں کچھ نہیں تو آدمی پر جو کچھ قیامت کے دن بیتنے والا ہے وہ اس پر آج ہی بیت جائے۔