Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:137

4:137
ان الذين امنوا ثم كفروا ثم امنوا ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا لم يكن الله ليغفر لهم ولا ليهديهم سبيلا ١٣٧
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًۭا لَّمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًۢا ١٣٧
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
ثُمَّ
كَفَرُواْ
ثُمَّ
ءَامَنُواْ
ثُمَّ
كَفَرُواْ
ثُمَّ
ٱزۡدَادُواْ
كُفۡرٗا
لَّمۡ
يَكُنِ
ٱللَّهُ
لِيَغۡفِرَ
لَهُمۡ
وَلَا
لِيَهۡدِيَهُمۡ
سَبِيلَۢا
١٣٧
一度信仰した者が,やがて不信心になり,それから(再度)信仰してまた背信し,その不信心を増長させる者があるが,アッラーはかれらを決して赦されないし,かれらを(正しい)道に導かれることはない。

— Ryoichi Mita

Quả thật, những ai đã có đức tin rồi phủ nhận đức tin sau đó lại có đức tin rồi phủ nhận đức tin lần nữa và sự vô đức tin càng tăng cường hơn thì chắc chắn Allah sẽ không tha thứ cho họ và sẽ không hướng dẫn họ đến con đường (chân lý).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 4:136 đến 4:139

’’ایمان والوایمان لاؤ‘‘ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ مسلمانوں مسلمان بنو۔ اپنے کو مسلمان کہنا یا مسلمان سمجھنا اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے یہاں بھی مسلمان قرار پائے۔ اللہ کے یہاں صرف وہ شخص مسلمان قرار پائے گا جو اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کے یقین واعتماد کا مرکز بن جائے۔ جو رسول کو اس طرح مانے کہ ہر دوسری رہنمائی اس کے لیے بے حقیقت ہوجائے۔ جو آسمانی کتاب کو اس طرح اپنائے کہ اس کی سوچ اور جذبات بالکل اس کے تابع ہوجائیں۔ جو فرشتوں کے عقیدہ کو اس طرح اپنے دل میں بٹھائے کہ اس کو محسوس ہونے لگے کہ اس کے دائیں بائیں ہر وقت خدا کے چوکیدار کھڑے ہوئے ہیں۔ جو آخرت کا اس طرح اقرار کرے کہ وہ اپنے ہر قول وفعل کو آخرت کی میزان پر جانچنے لگے۔ جو شخص اس طرح مومن بنے وہی اللہ کے نزدیک اس راستہ پر ہے جو ہدایت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ اور جو شخص اس طرح مومن نہ بنے وہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہے، خواہ وہ اپنے آپ خود کو کتنا ہی مومن ومسلم سمجھتا ہو۔

ماننے اور نہ ماننے کا یہ معرکہ آدمی کی زندگی میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ پڑتا ہے تو آدمی کا ذہن دو میں سے کسی ایک رخ پر چل پڑتا ہے۔ یا خواہشات کی طرف یا حق کے تقاضے پورے کرنے کی طرف۔ اگر ایسا ہو کہ معاملہ کے وقت آدمی کی سوچ اور جذبات خواہش کی سمت میں چل پڑیں تو گویا ایمان لانے والے نے ایمان سے انکار کیا۔ ا س کے برعکس، اگر وہ اپنی سوچ اور جذبات کو حق کا پابند بنا لے تو گویا ایمان لانے والا ایمان لے آیا۔ آدمی مسلمان بن کر دنیا کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک حق بات اس کے سامنے آتی ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جو ایسے موقع پر تواضع کا رویہ اختیار کرے اور حق کا اعتراف کرے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے اندر کبر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ حق بات کو ٹھکرادے۔ پہلی صورت ایمان کی صورت ہے اور دوسری صورت ایمان کا انکار کرنے کی۔ جو شخص سچا مومن نہ ہو وہ دنیا کی عزت و جاہ کو پسند کرتا ہے اس لیے وہ ان لوگوں کی طرف جھک پڑتا ہے جن سے منسوب ہو کر اس کی عزت وجاہ میں اضافہ ہو، خواہ وہ اہلِ باطل ہوں۔ اس کو ان لوگوں سے دل چسپی نہیں ہوتی جن سے منسوب ہونا اس کی عزت وجاہ میں اضافہ نہ کرے، خواہ وہ اہلِ حق ہوں۔