Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:167

4:167
ان الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله قد ضلوا ضلالا بعيدا ١٦٧
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ قَدْ ضَلُّوا۟ ضَلَـٰلًۢا بَعِيدًا ١٦٧
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
وَصَدُّواْ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
قَدۡ
ضَلُّواْ
ضَلَٰلَۢا
بَعِيدًا
١٦٧
信仰を拒否して,(人びとを)アッラーの道から遠ざける者たちは,確かに遠く迷い去った者である。

— Ryoichi Mita

Chắc chắn những kẻ vô đức tin và ngăn chặn con đường chính nghĩa của Allah đã lầm lạc quá xa.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 4:166 đến 4:170

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔

خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔

اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔