Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:28

4:28
يريد الله ان يخفف عنكم وخلق الانسان ضعيفا ٢٨
يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ ٱلْإِنسَـٰنُ ضَعِيفًۭا ٢٨
يُرِيدُ
ٱللَّهُ
أَن
يُخَفِّفَ
عَنكُمۡۚ
وَخُلِقَ
ٱلۡإِنسَٰنُ
ضَعِيفٗا
٢٨
(また)アッラーは,あなたがた(の負担)を軽くするよう望まれる。人間は(生れ付き)弱いものに創られている。

— Ryoichi Mita

Allah thực sự muốn giảm nhẹ (tội lỗi) khỏi các ngươi bởi (Ngài biết rõ) con người vốn được tạo ra yếu đuối (dễ sa ngã).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 4:26 đến 4:28

زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔

ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔