Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:63

4:63
اولايك الذين يعلم الله ما في قلوبهم فاعرض عنهم وعظهم وقل لهم في انفسهم قولا بليغا ٦٣
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعْلَمُ ٱللَّهُ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِىٓ أَنفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيغًۭا ٦٣
أُوْلَٰٓئِكَ
ٱلَّذِينَ
يَعۡلَمُ
ٱللَّهُ
مَا
فِي
قُلُوبِهِمۡ
فَأَعۡرِضۡ
عَنۡهُمۡ
وَعِظۡهُمۡ
وَقُل
لَّهُمۡ
فِيٓ
أَنفُسِهِمۡ
قَوۡلَۢا
بَلِيغٗا
٦٣
これらの者の心の中に抱くことを,アッラーは知っておられる。だからこれを意にとめず,かれらに訓戒し,魂に徹する言葉で呼びかけなさい。

— Ryoichi Mita

Đó là những kẻ mà Allah biết rõ điều (xấu) trong thâm tâm họ. Thế nên, Ngươi (hỡi Thiên Sứ Muhammad) hãy tránh xa họ, hãy cảnh báo họ và hãy nói với họ bằng lời lẽ sâu sắc và thấm thía vào bản thân họ.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

(آیت) ” اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم فاعرض عنھم وعظھم وقل لھم فی انفسھم قولا بلیغا “۔ (4 : 63) ”۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ، ان سے تعرض مت کرو انہیں سمجھاؤ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں اتر جائے ۔ “

یہ لوگ وہ ہیں جو اپنی نیتوں اور اپنے اندرونی ارادوں کو چھپانا چاہتے ہیں اور جھوٹے دلائل اور غلط عذر پیش کرتے ہیں لیکن اللہ ان کے دلوں کی پوشیدہ باتوں سے بھی واقف ہے اور ان کے ضمیر کے اندرونی حالات سے بھی باخبر ہیں ۔ لیکن جو پالیسی اسی وقت طے شدہ تھی وہ یہ تھی کہ منافقین سے چشم پوشی کی جائے ‘ ان کے ساتھ نرمی برتی جائے اور وعظ ونصیحت اور تعلیم وتربیت سے کام لیا جائے ۔۔۔۔ اس مقصد کے لئے عجیب انداز کلام اختیار کیا گیا ہے ۔ وقل لھم فی انفسھم قولا بلیغا “۔ (4 : 63) ” اور ان کو اس قدر بلیغانہ انداز میں سمجھاؤ کہ بات ان کے دل میں اتر جائے “۔ یہ نہایت ہی مصورانہ انداز تعبیر ہے ۔ گویا بات براہ راست ان کے دل میں رکھی جا رہی ہے اور وہ بات وہاں بیٹھتی جا رہی ہے ۔

اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی طرف مائل کرتے ہیں تاکہ وہ سیدھی راہ پر آجائیں اور اللہ اور رسول کی پناہ میں امن و سکون کی زندگی بسر کریں ۔ اگرچہ انہوں نے یہ کوشش کی کہ وہ طاغوت کی عدالت سے فیصلے کرائیں اور یہ بات ان سے ظاہر بھی ہوگئی ۔ انہوں نے حضور سے فیصلہ کرانے سے پہلوتہی اختیار کی حالانکہ ان کو اس کی جانب بلایا گیا تھا ۔ لیکن ان سب کوتاہیوں کے باوجود توبہ کا دروازہ کھلا ہے ‘ اور واپسی کا وقت ختم نہیں ہوا ہے اور وہ اب بھی اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے معافی طلب کرسکتے ہیں ۔ رسول اللہ کی جانب سے انکے لئے استغفار قابل قبول ہے لیکن یہ استغفار تب قابل قبول ہوگی جب اصولی بات مان لی جائے اور وہ بات یہ ہے کہ رسولوں کو محض اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ لوگ ان کی اطاعت کریں ورنہ پھر رسالت کا مطلب کیا ہوا ۔ نیز یہ کہ رسول محض واعظ نہیں ہوتا اور نہ محض مرشد ہوتا ہے ۔