Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:75

4:75
وما لكم لا تقاتلون في سبيل الله والمستضعفين من الرجال والنساء والولدان الذين يقولون ربنا اخرجنا من هاذه القرية الظالم اهلها واجعل لنا من لدنك وليا واجعل لنا من لدنك نصيرا ٧٥
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَٰنِ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلظَّالِمِ أَهْلُهَا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّۭا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا ٧٥
وَمَا
لَكُمۡ
لَا
تُقَٰتِلُونَ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
وَٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ
مِنَ
ٱلرِّجَالِ
وَٱلنِّسَآءِ
وَٱلۡوِلۡدَٰنِ
ٱلَّذِينَ
يَقُولُونَ
رَبَّنَآ
أَخۡرِجۡنَا
مِنۡ
هَٰذِهِ
ٱلۡقَرۡيَةِ
ٱلظَّالِمِ
أَهۡلُهَا
وَٱجۡعَل
لَّنَا
مِن
لَّدُنكَ
وَلِيّٗا
وَٱجۡعَل
لَّنَا
مِن
لَّدُنكَ
نَصِيرًا
٧٥
あなたがたはどうして,アッラーの道のために戦わないのか。また弱い男や女や子供たちのためにも。かれらは(祈って)言う。「主よ,この不義をなす(マッカの)住民の町から,わた したちを救い出して下さい。そしてわたしたちに,あなたの御許から一人の保護者を立てて下さ い。またわたしたちに,あなたの御許から一人の援助者を立てて下さい。」

— Ryoichi Mita

Điều gì đã cấm cản các ngươi (những người có đức tin) không đi chiến đấu cho con đường chính nghĩa của Allah để giải phóng cho những người đàn ông, những người phụ nữ và đám trẻ thơ đang cầu nguyện: “Lạy Thượng Đế của bầy tôi, xin hãy giải cứu bầy tôi thoát khỏi thị trấn (Makkah) này bởi cư dân của nó là kẻ áp bức và bất công, xin Ngài hãy chỉ định ai đó đứng ra làm người bảo hộ và giúp đỡ bầy tôi.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

(آیت) ” نمبر 75۔

قتال فی سبیل اللہ میں سستی کرنے کا تمہارے لئے کیا موقعہ ہے جب کہ ان مجبور اور ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کا آزاد کرانا تمہارے فرائض میں سے ہے ۔ یہ لوگ جو قابل رحم حالت میں ہیں اور جن کی تصویر کشی قرآن کریم نہایت ہی اچر آفریں الفاظ میں کرتا ہے جس پر مسلمانوں کی حمیت جوش میں آتی ہے ۔ مسلمانوں کی عزت نفس جوش میں آتی ہے اور انسانی رحم اور ہمدردی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں ‘ اس لئے کہ یہ لوگ شدید سے شدید تر مظالم کے شکار ہو رہے ہیں ۔ اس لئے بھی کہ ان پر یہ مظالم محض ان کے نظریات کی وجہ سے ہو رہے ہیں ۔ ان کے دین کی وجہ سے انہیں مبتلائے مصیبت کیا جارہا ہے ۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی جرم نہیں ہے ۔ غرض نظریات اور دین کی وجہ سے جو مصائب آتے ہیں وہ جان ومال کی وجہ سے آنے والے مصائب سے زیادہ شدید اور سخت ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ مصائب انسان پر انسانی خصوصیات کی وجہ سے آتے ہیں ۔ اور انسان کی عزت نفس اس کی عزت اور اس کے حق ملکیت وغیرہ کے حوالے سے مصائب کا درجہ اس کے بعد آتا ہے ۔

ایسی عورت کی تصویر جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو ‘ ایسے بچوں کی مناظر جو نحیف وناتواں ہوں ‘ ایک ایسا منظر ہے جو جذبات کے اندر تلاطم پیدا کردیتا ہے ۔ خصوصا وہ ضعیف لوگ اور بوڑھے جو اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے اور خصوصا ایسے حالات میں جب اس دفاع کا تعلق دین اور عقیدے سے ہو ۔ یہ منظر ایسے وقت میں دکھایا جاتا ہے ۔ جس میں جہاد کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جہاد کے لئے نہ اٹھنا نہایت ہی مکروہ فعل ہوگا ‘ جبکہ مظلوموں کی یہ چیخ و پکار سنی جا رہی ہو۔ یہ ایک ایسا اسلوب بیان ہے جو دلوں کو پگھلا دیتا ہے اور انسانی شعور اور احساس کے اندر گہرائی تک اتر جاتا ہے ۔

لہذا ایک نظر اس پہلو پر بھی ڈالیں کہ اسلامی تصور کے مطابق ملک ووطن کی حیثیت کیا ہے ۔ یہاں ملک اور بلدہ کی تعریف یوں کی جاتی ہے ۔ (الظالم اھلھا) جس کے لوگ ظالم ہیں ‘ یہ اسلام کے نزدیک دارالحرب ہے ۔ اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس ملک کے ساتھ کمزور مسلمانوں اور ان کے بیوی بچوں کو چھڑانے کے لئے جنگ کریں اور یہ وطن مکہ ہے جو مہاجرین کا اصلی وطن تھا اور ان مہاجرین کو پرجوش دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس مالک کے خلاف جنگ کریں اور ضعیف مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ موقعہ پاتے ہی اس ظالم ملک سے نکل آئیں ۔

یہاں اس علاقے اور ملک کا مہاجرین کا وطن اصلی ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس وجہ سے اسلامی نقطہ نظر سے اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی جب کہ اس میں اللہ کی شریعت بھی نافذ نہیں ہے ۔ وہ اسلامی نظام حیات کے تحت نہیں ہے جس میں مومنین کو ان کے ایمان کی وجہ سے فتنوں اور مصیبتوں میں ڈالا جاتا ہے اور ان پر محض ان کے عقیدے کی وجہ سے مظالم ڈھائے جاتے ہیں بلکہ خود ان اصلی باشندوں کے نقطہ نظر سے یہ ملک دارالحرب بن گیا ہے ۔ وہ اپنے اس اصل وطن کی مدافعت نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ خود اپنے اصل ملک کے خلاف اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ وہاں سے اپنے مومن بھائیوں کو نکال لیں ۔ غرض مسلمان کا جھنڈا وہ ہوتا ہے جو اس کے عقیدے کا جھنڈا ہوتا ہے اور ایک مسلمان صرف ایک جھنڈے کی حمایت کرتا ہے ۔ اس کا وطن جس کے لئے ہو لڑتا ہے وہ وطن ہے جس میں اسلامی نظام تربیت نافذ ہو ‘ اور اس کی وہ سرزمین جس کا وہ دفاع کرے گا وہ سرزمین ہے جو دارالاسلام ہے اور جس میں اسلامی شریعت اور اسلامی نظام جاری وساری ہو۔ اس کے علاوہ کسی وطن کے بارے میں جس قدر تصورات ہیں وہ غیر اسلامی اور جاہلی تصورات میں اور اسلام ان تصورات کو ہر گز نہیں پہچانتا ۔

اس ایک دوسرا ٹچ اس موضوع کو دیا جاتا ہے ہمتوں کو تازہ کرنے کا ایک اور موقع ہے ‘ عزائم میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے ۔ ایک نئی راہ میں روشنی کے قمقمے چمک اٹھتے ہیں ۔ مقاصد ‘ مفادات اور اقدار حیات کی ایک نئی تعریف (Definition) سامنے آتی ہے ۔ ہر ایک گروہ اپنی اقدار کے لئے کام کرتا ہوا نظر آتا ہے