Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:8

4:8
واذا حضر القسمة اولو القربى واليتامى والمساكين فارزقوهم منه وقولوا لهم قولا معروفا ٨
وَإِذَا حَضَرَ ٱلْقِسْمَةَ أُو۟لُوا۟ ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينُ فَٱرْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا۟ لَهُمْ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا ٨
وَإِذَا
حَضَرَ
ٱلۡقِسۡمَةَ
أُوْلُواْ
ٱلۡقُرۡبَىٰ
وَٱلۡيَتَٰمَىٰ
وَٱلۡمَسَٰكِينُ
فَٱرۡزُقُوهُم
مِّنۡهُ
وَقُولُواْ
لَهُمۡ
قَوۡلٗا
مَّعۡرُوفٗا
٨
遺産の分配に際し,もし遠い親族や孤児や貧者が,その場に居合わせた時は,それ(遺産)からかれらにも与え,懇切に言葉優しく話しかけなさい。

— Ryoichi Mita

Trong lúc các ngươi phân chia gia tài để lại, nếu có mặt của bà con họ hàng, trẻ mồ côi và người nghèo thì các ngươi hãy chia cho họ một ít (từ gia tài đó) và các ngươi hãy nói năng tử tế với họ.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

(آیت) ”۔ واذا حضر القسمة اولوالقربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ وقولولھم قولا معروفا “۔ (8)

اس آیت کے بارے میں علماء سے بہت سے اقوال نقل ہوئے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے ۔ اور اسے آیت میراث نے منسوخ کردیا ہے جس میں تمام لوگوں کے حصص مقرر ہوچکے ہیں ۔ بعض نے اسے منسوخ اور قائم کہا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا مفہوم اور مدلول پر عمل کرنا فرض اور واجب ہے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس پر عمل کرنا مستحب ہے ۔ یہ وارثوں کی مرضی ہے کہ وہ اس پر عمل کریں یا نہ کریں ، میرے خیال میں اس کے منسوخ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ آیات محکمات میں سے ہیں اور اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔ اس لئے کہ ایک تو بظاہریہ مطلق ہے ۔ دوسرے یہ کہ اسلامی نظام حیات میں عام کفالت اور برواحسان کو بہت ہی پسند کیا جاتا ہے ۔ بہرحال یہ ایک مستقل مد ہے اور ان حصص کے علاوہ ہے جو آنے والی آیات کے اندر متعین کردیئے ہیں ۔

اس سے پہلے کہ وارثان کے حصص کا بیان شروع ہو ‘ ایک بار پھر تاکید کی جاتی ہے کہ یتیموں کا مال کھانا بہت ہی خطرناک جرم ہے ‘ یہ دوبارہ تاکید اس لئے کی جاتی ہے کہ اہل ایمان کے دلوں کو ایک دو شدید چٹکیاں بھریں ۔ پہلی چٹکی سے ان کے دل کے اندر پوشیدہ پدری شفقت کو جگانا مطلوب ہے ۔ بچوں کے ساتھ ہر باپ کو فطری محبت ہوتی ہے ۔ خصوصا جبکہ وہ بہت ہی ضعیف اور ناتوانی کی حالت میں ہوں اور یہ کہ خدا خوفی کا جذبہ ہی بہترین محاسب اور نگران ہوتا ہے اور دوسری چٹکی سے ان کے دلوں میں جذبات خوف اور انجام بد کے ڈر کو جگایا جاتا ہے ۔ جہنم کی آگ کا خوف اور یہ یہاں ایک محسوس ‘ مشاہد اور خوفناک انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔