Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nur 24:45

24:45
والله خلق كل دابة من ماء فمنهم من يمشي على بطنه ومنهم من يمشي على رجلين ومنهم من يمشي على اربع يخلق الله ما يشاء ان الله على كل شيء قدير ٤٥
وَٱللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍۢ مِّن مَّآءٍۢ ۖ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِى عَلَىٰ بَطْنِهِۦ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِى عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِى عَلَىٰٓ أَرْبَعٍۢ ۚ يَخْلُقُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٤٥
وَٱللَّهُ
خَلَقَ
كُلَّ
دَآبَّةٖ
مِّن
مَّآءٖۖ
فَمِنۡهُم
مَّن
يَمۡشِي
عَلَىٰ
بَطۡنِهِۦ
وَمِنۡهُم
مَّن
يَمۡشِي
عَلَىٰ
رِجۡلَيۡنِ
وَمِنۡهُم
مَّن
يَمۡشِي
عَلَىٰٓ
أَرۡبَعٖۚ
يَخۡلُقُ
ٱللَّهُ
مَا
يَشَآءُۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٞ
٤٥
またアッラーは,ありとあらゆる動物を水から創られた。そのあるものは,腹で這い,またあるものは2本足で歩き,あるものは4つ足で歩く。アッラーは御望みのものを創られる。本当にアッラーは何事につけ全能であられる。

— Ryoichi Mita

Allah đã tạo ra mọi sinh vật từ nước. Có loài di chuyển bằng bụng, có loài di chuyển bằng hai chân, và có loài di chuyển bằng bốn chân. Allah tạo ra bất cứ thứ gì Ngài muốn, quả thật Allah là Đấng Toàn Năng trên mọi việc.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

(واللہ خلق۔۔۔۔۔۔۔۔ قدیر) (45) ” “۔

یہ ایک عظیم حقیقت ہے جس کو قرآن کریم نہایت ہی سادے الفاظ میں بیان کررہا ہے۔ یہ حقیقت کہ ہر زندہ مخلوق کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حیات کے بنیادی عناصر ایک ہی ہیں اور یہ کہ زندگی کے قیام کا بنیادی عنصر پانی ہے۔ جدید سائنس بھی اس بات کی طرف جارہی ہے کہ زندگی کی اصل تخلیق پانی میں ہوئی۔ یعنی سمندر میں۔ یعنی ابتدائی حالت میں زندگی پانی میں تھی۔ اس کے بعد زندگی کے اندر رنگارنگی پیدا ہوئی۔ یہ تو ہے سائنس دانوں کی سوچ۔

ہماری سوچ مختلف ہے۔ ہم قرآنی حقائق کو سائنس کی خراوپر نہیں چڑھاتے۔ کیونکہ سائنس کے اصول اور معیار بدل جاتے ہیں جبکہ قرآن ناقابل تغیر اور آخری حقائق بتاتا ہے۔ ہم بس یہی کہتے ہیں کہ حیات کا اصل پانی ہے۔ اس لیے کہ قرآن یہ کہتا ہے۔ اگر چہ حیات کی شکلیں مختلف نظر آتی ہیں لیکن اس کا اصلی مادہ پانی ہی ہے۔ پانی ہی سے حیوان زمین پر چلنے لگا ہے۔

یخلق اللہ مایشآ ئ (24 : 45) ” اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے “۔ مختلف ہیئت اور مختلف شکل کے جانور پیدا کرتا ہے اور یہ اللہ کی مشیت ہے کہ وہ کیا پیدا کرتا ہے اور کس شکل میں پیدا کرتا ہے۔

ان اللہ علی کل شیء قدیر (24 : 45) ” بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اگر ہم تمام زندہ چیزوں پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ حیات کی اصل تو ایک ہے لیکن اس ایک ہی مادے سے اللہ نے کیا کیا چیزیں ‘ کس کس شکل پر بنائی ہیں۔ مختلف حجم والی مختلف رنگوں والی ‘ مختلف شکل و صورت والی۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک خالق اور مدبر ہے جو یہ رنگارنگی پیدا کررہا ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

اس گہرے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی کوئی چیز محض اتفاق سے بلا ارادہ اس طرح پیدا نہیں ہوگئی ہے بلکہ ایک تدبیر اور ارادے سے ایسا ہوا ہے۔ اگر تدبیر اور ارادہ خالق کو تسلیم نہ کیا جائے تو وہ کیا اتفاق ہے جس نے اسے پیدا کیا۔ پھر یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہر چیز کے اندر خود بخود ایک تدبیر اور تقدیر پیدا ہوگئی۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو اس کی تخلیق بخشی اور ہر چیز کو ہدایت ‘ وجدان اور شعور بخشا ہے کہ اس کا فرض منصبی کیا ہے۔