Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ar-Ra'd 13:26

13:26
الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر وفرحوا بالحياة الدنيا وما الحياة الدنيا في الاخرة الا متاع ٢٦
ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ وَفَرِحُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِلَّا مَتَـٰعٌۭ ٢٦
ٱللَّهُ
يَبۡسُطُ
ٱلرِّزۡقَ
لِمَن
يَشَآءُ
وَيَقۡدِرُۚ
وَفَرِحُواْ
بِٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَا
وَمَا
ٱلۡحَيَوٰةُ
ٱلدُّنۡيَا
فِي
ٱلۡأٓخِرَةِ
إِلَّا
مَتَٰعٞ
٢٦
アッラーは御心に適う者に豊かに糧を与え,また乏しくも授けられる。(かれらは)現世の生活を楽しむ。だが現世の生活は,来世では,(はかない)享楽に過ぎない。

— Ryoichi Mita

Allah nới rộng bổng lộc cho ai Ngài muốn và thu hẹp bổng lộc đối với ai là tuỳ ý Ngài. (Những kẻ vô đức tin), chúng vui với cuộc sống trần gian trong khi cuộc sống trần gian này so với cuộc sống Đời Sau chỉ là một sự hưởng thụ (ngắn ngủi, chóng tàn).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت نمبر 26

اس سے قبل اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ ایک شخص اس حقیقت کو جانتا ہے اور مانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو سچائی نازل ہو رہی ہے ، وہ حق ہے ، وہی دانشمند اور عقلمند ہے اور جو نہیں جانتا وہ اعمیٰ ہے۔ اب یہاں اہل کفر کی کم عقلی اور اندھے پن کی کچھ مثالیں دی جاتی ہیں کہ یہ لوگ اس کائنات میں اللہ کی آیات و نشانات کو نہیں دیکھ پا رہے۔ دانشوروں کے لئے یہ تو قرآن ہی کافی معجزہ ہے لیکن عقل کے یہ کورے قرآن سے بھی بڑا کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں۔ سورة کے پہلے حصے میں ان کے مطالبات کا ذکر ہوچکا ہے اور وہاں یہ جواب بھی دے دیا گیا تھا کہ رسول تو صرف ڈرانے والا ہے اور معجزات کا صدور اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہاں ایسے ہی مطالبات کو پھر دہرا کر بتایا جاتا ہے کہ ضلالت و ہدایت کے اسباب کیا ہوتے ہیں ۔ پھر ان دلوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اللہ کے ذکر ہی سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ اس قرآن اور ذکر الٰہی سے آگے مزید خوارق عادت معجزات کا مطالبہ نہیں کرتے۔ یہ قرآن اپنی جگہ گہری اثر آفرینی کا حامل ہے یہاں تک کہ اسے سن کر قریب ہے کہ پہاڑ چل پڑیں اور قریب ہے کہ زمین پھٹ پڑے اور قریب ہے کہ مردے بھی اس کی حقانیت کے نعرے لگانے لگ جائیں کیونکہ اس قرآن میں بےپناہ قوت ، مادہ حیات اور انقلابی اسپرٹ ہے۔ آخر میں مومنین کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں سے مایوس ہوجائیں جو معجزات طلب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ میں ان لوگوں کے رویہ کا مطالعہ کریں جنہوں نے اچھی مثالیں چھوڑی ہیں اور پھر ان لوگوں کی حالت کو بھی دیکھیں جو ان جیسے تھے اور جو اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔