Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ar-Ra'd 13:26

13:26
الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر وفرحوا بالحياة الدنيا وما الحياة الدنيا في الاخرة الا متاع ٢٦
ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ وَفَرِحُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِلَّا مَتَـٰعٌۭ ٢٦
ٱللَّهُ
يَبۡسُطُ
ٱلرِّزۡقَ
لِمَن
يَشَآءُ
وَيَقۡدِرُۚ
وَفَرِحُواْ
بِٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَا
وَمَا
ٱلۡحَيَوٰةُ
ٱلدُّنۡيَا
فِي
ٱلۡأٓخِرَةِ
إِلَّا
مَتَٰعٞ
٢٦
アッラーは御心に適う者に豊かに糧を与え,また乏しくも授けられる。(かれらは)現世の生活を楽しむ。だが現世の生活は,来世では,(はかない)享楽に過ぎない。

— Ryoichi Mita

Allah nới rộng bổng lộc cho ai Ngài muốn và thu hẹp bổng lộc đối với ai là tuỳ ý Ngài. (Những kẻ vô đức tin), chúng vui với cuộc sống trần gian trong khi cuộc sống trần gian này so với cuộc sống Đời Sau chỉ là một sự hưởng thụ (ngắn ngủi, chóng tàn).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 13:25 đến 13:26

انسان اپنے خدا سے عہد فطرت میں بندھا ہواہے اور دوسرے انسانوں سے عہد آدمیت میں۔ ان دونوں عہدوں کو توڑنا خدا کی زمین میں فساد کرنا ہے۔ خدا کی زمین میںاصلاح یافتہ بن کر رہنا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ دونوں عہدوں کا پابند بن کر زندگی گزارے۔ اس کے برعکس ،خدا کی زمین میں فسادی بننا یہ ہے کہ آدمی ان عہدوں سے آزاد ہو جائے۔ اس کو نہ خدا کے حقوق کی پروا ہو اور نہ انسانوں کے حقوق کی۔

ایسے لوگ خدا کے نزدیک لعنت زدہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار نہیں بنائے جائیں گے۔ انھوںنے خداکی زمین کو گندا کیا، اس لیے وہ اسی قابل ہیں کہ آئندہ ان کو صرف گندے گھر میں جگہ ملے۔

دنیامیں کسی کو کم ملتاہے اور کسی کو زیادہ۔ اب جس کو زیادہ ملا وہ احساس برتری میں مبتلا ہوجاتاہے اور جس کو کم ملا وہ احساس کمتری میں۔ مگر خدا کی نظرمیں یہ دونوں غلط ہیں۔ صحیح ردعمل یہ ہے کہ زیادہ ملے تو آدمی خدا کا شکر گزار بنے، کم ملے تو وہ صبر اور قناعت کا طریقہ اختیار کرے۔

دنیا پرست لوگ ہمیشہ حق کے داعی کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا پرست آدمی صرف ظاہری عظمتوں کو پہچاننا جانتاہے۔ چوں کہ داعی کے پاس صرف معنوی عظمت ہوتی ہے اس لیے وہ اس کو پہچان نہیں پاتا۔ وہ اس کوحقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ مگر جب حقیقت کا پردہ پھٹے گا اس وقت انسان جانے گا کہ جس نظر آنے والی رونق کو وہ سب کچھ سمجھے ہوئے تھا وہ بالکل بے قیمت تھی۔ قدر وقیمت کی چیز دراصل وہ تھی جو دکھائی نہ دینے کی وجہ سے اس کی توجہ كا مرکز نہ بن سکی۔