Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ar-Rum 30:39

30:39
وما اتيتم من ربا ليربو في اموال الناس فلا يربو عند الله وما اتيتم من زكاة تريدون وجه الله فاولايك هم المضعفون ٣٩
وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن رِّبًۭا لِّيَرْبُوَا۟ فِىٓ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرْبُوا۟ عِندَ ٱللَّهِ ۖ وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن زَكَوٰةٍۢ تُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُضْعِفُونَ ٣٩
وَمَآ
ءَاتَيۡتُم
مِّن
رِّبٗا
لِّيَرۡبُوَاْ
فِيٓ
أَمۡوَٰلِ
ٱلنَّاسِ
فَلَا
يَرۡبُواْ
عِندَ
ٱللَّهِۖ
وَمَآ
ءَاتَيۡتُم
مِّن
زَكَوٰةٖ
تُرِيدُونَ
وَجۡهَ
ٱللَّهِ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡمُضۡعِفُونَ
٣٩
あなたがたが利殖のために,高利で人に貸し与えても,アッラーの許では,何も増えない。だがアッラーの慈顔を求めて喜捨する者には報償が増加される。

— Ryoichi Mita

Những gì các ngươi đưa cho (ai đó) dưới hình thức Riba (cho vay lấy lãi) với mục đích gia tăng phần lộc (của mình) trong tài sản của thiên hạ thì chắc chắn các ngươi sẽ chẳng được điều gì ở nơi Allah. Ngược lại, những gì các ngươi đưa cho (ai đó) dưới hình thức Zakah chỉ mong muốn làm hài lòng Allah (chứ không mong gì khác từ thiên hạ) thì các ngươi chính là những người sẽ được Ngài nhân thêm phần ân thưởng.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 30:38 đến 30:40
صلہ رحمی کی تاکید ٭٭

قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے۔

مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔ اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔

صفحہ نمبر6802

اسی کی مشابہ آیت «وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ» [74-المدثر:6] ‏ ہے یعنی ” زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔‏“

صحیح حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:1410] ‏

اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔

صفحہ نمبر6803

دوصحابیوں رضوان اللہ علیہم کا بیان ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو سرہ لنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:4798،] ‏۔

اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔

صفحہ نمبر6804