Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: As-Saf 61:11

61:11
تومنون بالله ورسوله وتجاهدون في سبيل الله باموالكم وانفسكم ذالكم خير لكم ان كنتم تعلمون ١١
تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَـٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ١١
تُؤۡمِنُونَ
بِٱللَّهِ
وَرَسُولِهِۦ
وَتُجَٰهِدُونَ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
بِأَمۡوَٰلِكُمۡ
وَأَنفُسِكُمۡۚ
ذَٰلِكُمۡ
خَيۡرٞ
لَّكُمۡ
إِن
كُنتُمۡ
تَعۡلَمُونَ
١١
それはあなたがたがアッラーとその使徒を信じ,あなたがたの財産と生命をもってアッラーの道に奮闘努力することである。もし分るならば,それはあなたがたのために最も善い。

— Ryoichi Mita

(Đó là) các ngươi tin nơi Allah và Sứ Giả của Ngài đồng thời chiến đấu cho con đường Chính Nghĩa của Allah bằng tài sản và sinh mạng của các ngươi. Điều đó tốt nhất cho các ngươi nếu các ngươi biết.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

تومنون ................ ورسولہ (16 : 11) ” ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر “۔ وہ تو اللہ اور رسول پر ایمان لاچکے تھے۔ اور وہ جب جواب سنتے ہیں تو ان کے دل روشن ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ جواب شرط تو پہلے سے ان کے اندر موجود ہے۔

وتجاھدون ........................ وانفسکم (16 : 11) ” اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے “۔ اور یہی اس صورت کا مضمون اور محور ہے۔ اس انداز میں یہ آتارہا ہے ، بار بار تکرار کے ساتھ ، اس طرح اسے مضمون کے اندر بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان کو تربیت دینے کے لئے بار بار کی یاددہانی کی ضرورت ہے۔ مختلف انواع و دلائل اور مختلف قسم کی تائید وتاکید کے ساتھ تاکہ اس قدر پر مشقت فرائض کی ادائیگی کے لئے نفس انسانی تیار ہوجائے۔ کیونکہ اس قسم کے پر مشقت فرائض کی ادائیگی کے بغیر نہ اسلامی منہاج یہاں زندہ رہ سکتا ہے اور نہ اس کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد اس تجارت پر مزید تبصرہ کیا جاتا ہے اور اس تجارت کی تعریف وتحسین کی جاتی ہے۔

ذلکم .................... تعلمون (16 : 11) ” یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو “۔ اس لئے کہ انسان کسی بھلائی کی طرف تب ہی لپکتا ہے جب اسے علم ہو کہ بھلائی یہ ہے۔ اس کے بعد اگلی آیات میں اس بھلائی اور تجارت کی مزید تفصیلات دی جاتی ہیں۔ کیونکہ اجمال کے بعد تفصیلات کا اثر بہت ہوتا ہے۔ اس طرح بات احساس میں مسقلا بیٹھ جاتی ہے۔