Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: As-Saf 61:13

61:13
واخرى تحبونها نصر من الله وفتح قريب وبشر المومنين ١٣
وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌۭ قَرِيبٌۭ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٣
وَأُخۡرَىٰ
تُحِبُّونَهَاۖ
نَصۡرٞ
مِّنَ
ٱللَّهِ
وَفَتۡحٞ
قَرِيبٞۗ
وَبَشِّرِ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
١٣
またあなたがたが好む,外(の恩恵)を与えられる。アッラーの御助けと,速かな勝利である。だからこの吉報を信者たちに伝えなさい。

— Ryoichi Mita

Và (các ngươi sẽ có được) một (ân huệ) khác mà các ngươi yêu thích - đó là sự giúp đỡ của Allah và một cuộc thắng lợi gần kề (chinh phục được Makkah). Vì vậy, Ngươi (hỡi Thiên Sứ Muhammad) hãy báo tin mừng cho những người có đức tin.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

واخری ........................ المومنین (16 : 31) ” اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو “۔

یہ سواد یہاں شرح منافع کی انتہاﺅں کو چھو لیتا ہے۔ اور یہ منافع اللہ ہی دے سکتا ہے۔ وہ اللہ جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے ، وہ اللہ جس کی رحمت کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ رحمتیں کیا ہیں ، مغفرت گناہ ، باغات ، بہترین مکانات ، جن کے اندر نہ ختم ہونے والی نعمتیں ہوں گی اور اس سودے کا منافع صرف آخرت ہی میں نہیں بلکہ ان کی ایک قسط یہاں دنیا میں بھی دے جائے گی۔ اللہ کی نصرت اور غلبہ دین اور فتح مبین۔ کون ہے جو ایسی تجارت نہ کرے گا یا اس میں تامل کرے گا۔ یا اس سے پہلو تہی کرے گا۔

اس ترغیب اور تلقین کے بعد نفس انسانی کے تصور کا منظر آتا ہے۔ یہ تصور انسان کے لئے بہت اہم ہے۔ جو شخص اس کائنات اور اس کے اندر اس زندگی کا ایمانی تصور رکھتا ہو ، اور وہ اپنے دل میں یہ تصور رکھتے ہوئے زندگی بسر کررہا وہ ، اس تصور کے وسیع آفاق اور حدود بھی رکھتا ہو ، اس کے بعد یہ شخص اگر ایسی زندگی کے بارے میں سوچے جو ایمان سے خالی ہے۔ جو نہایت ہی محدود تنگ اور چھوٹی زندگی ہے ، جس کی سطح بہت گری ہوئی ہے۔ جس کی اہم ترین باتیں نہایت ہی حقیر ہیں۔ تو اس قسم کا دل جس نے ایمانی کی یہ وسعتیں دیکھی ہوئی ہیں وہ اس قدر محدود اور حقیر زندگی میں ایک منٹ کے لئے بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ ایک منٹ بھی اس جہاد اور جدوجہد میں شرکت سے تاخیر نہ کرے گا ، جس کا مقصد اس طرح کی وسعت والی زندگی کو اس کرہ ارض پر قائم کرنا ہے ، تاکہ اس میں وہ بھی زندہ رہے ، اور لوگ بھی زندہ رہیں۔ اور پھر صورت یہ ہے کہ وہ اس جہاد اور جدوجہد پر کئی اجر بھی طلب نہ کرتا ہو۔ کیونکہ یہ زندگی اور یہ نظام بذات خود ہی ایک مقصد اور اجر ہے۔ یہ نظر یہ جہاد جو دل کو خوشی اور فرحت سے بھر دیتا ہے ، اسے کون ترک کرسکتا ہے اور اس کے سوا کون زندہ رہ سکتا ہے۔ ایسا شخص دوڑ کر اس جہاد میں کود پڑتا ہے۔ آتش نمرود ہو تو بھی کود پڑتا ہے ، جو بھی نتیجہ ہو ، کود پڑتا ہے۔

لیکن دیکھئے اللہ کو معلوم ہے کہ نفس انسانی بہت ضعیف ہے ، کسی وقت بھی اس کے جوش و خروش میں کمی آسکتی ہے۔ اور یہ کہ جہاد میں تیزی کسی بھی وقت کند ہوسکتی ہے اور امن کو شی اور سلاست پسندی انسان کو کبھی گری ہوئی زندگی گزارنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔ اس لئے قرآن کریم ایک ہی اسلوب پر بات کرکے ختم نہیں کردیتا۔ وہ نفس انسانی کو تیار کرنے کے لئے ہر پہلو سے سعی کرتا ہے۔ ہر قسم کے موثرات ، دلائل ، شواہد اور مثالیں دیتا ہے۔ بار بار پکارتا ہے اور انسان کو صرف ایمان اور افراد کے حوالے نہیں کردیتا ، نہ ہی صرف ایک بار حکم دے دیتا ہے جس طرح ایک سرکاری افسر سرکلرجاری کردیتا ہے۔