Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: As-Sajdah 32:27

32:27
اولم يروا انا نسوق الماء الى الارض الجرز فنخرج به زرعا تاكل منه انعامهم وانفسهم افلا يبصرون ٢٧
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَسُوقُ ٱلْمَآءَ إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًۭا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَـٰمُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ ۖ أَفَلَا يُبْصِرُونَ ٢٧
أَوَلَمۡ
يَرَوۡاْ
أَنَّا
نَسُوقُ
ٱلۡمَآءَ
إِلَى
ٱلۡأَرۡضِ
ٱلۡجُرُزِ
فَنُخۡرِجُ
بِهِۦ
زَرۡعٗا
تَأۡكُلُ
مِنۡهُ
أَنۡعَٰمُهُمۡ
وَأَنفُسُهُمۡۚ
أَفَلَا
يُبۡصِرُونَ
٢٧
またわれが水を不毛の地に送り,それで作物を育成させ,かれら自身や家畜に食べさせるのを見ないのか。かれらは見る目を持たないのか。

— Ryoichi Mita

Chẳng lẽ họ không nhận thấy việc TA dẫn nước đến vùng đất khô cằn để TA làm mọc ra hoa màu và cây cỏ dùng làm thực phẩm cho gia súc của họ và cả bản thân họ nữa hay sao? Lẽ nào họ không quan sát?!

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ افلا یبصرون (27)

یہ مردہ زمین ، تباہ حال زمین ، یہ دیکھتے ہیں کہ قدرت خداوندی اس کی طرف پانی چلاتی ہے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ یہی مردہ زمین سرسبز و شاداب ہو کر زندگی سے بھرپور ہوگئی ہے اور لہلہاتی ہے۔ فصلیں اگتی ہیں۔ لوگ بھی کھاتے ہیں اور ان کے مویشی بھی کھاتے ہیں۔ مردہ زمین کا منظر جس پر بارش برستی ہے اور وہ زندہ و تابندہ ہوجاتی ہے۔ یہ منظر دراصل دلوں کے بند دروازوں کو کھولنے کے لیے نہایت ہی موثر منظر ہے۔ دیکھو ہر طرف زندگی اور نباتات کا اگاؤ اور لوگوں اور مویشیوں کی خوشیاں اور ان کا استقبال۔ زندگی کی مٹھاس اور تروتازگی کا شعور۔ پھر اس سرسبز زندگی اور خوبصورت اور تروتازہ ماحول کی خوبصورتی۔ قرب اور محبت کی فضا میں زمزمے ، جن میں اللہ کی قدرت کا جمال ہر طرف نظر آتا ہے اور اس کی صنعت کاریوں کے نمونے جابجا بکھرے پڑے ہیں اور جن سے اس کائنات کے صفحات پر ہر طرف زندگی اور خوبصورتی کے مناظر نظر آتے ہیں۔

یوں قرآن مجید دل انسان کو زندگی کے مختلف نشیب و فراز کی سیر کراتا ہے۔ جہاں زندگی بھی ہے اور نشوونما بھی ہے اور سرسبزی و شادابی بھی ہے اور اقوام سابقہ کی ہلاکتوں کے میدان اور آثار بھی ہیں۔ ہر جگہ قرآن کریم کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح قلب انسانی کے اندر حرکت پیدا ہو ، وہ جاگے اور اسے اس جہان کے ساتھ الفت پیدا ہو۔ اس جہاں اور اس کی بوقلمونیوں پر سے محض غافل ہو کر نہ گزرے۔ آنکھوں پر سے پردے دور کر دے۔ ان مشاہد اور مناظر قدرت کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش کرے۔ واقعات سے عبرت حاصل کرے اور تاریخ سے برہان اور دلائل حاصل کرے۔

آخر میں اس طویل سیاحت کے بعد سورة کا مقطع آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے آجانے میں جلدی کرتے ہیں ، جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے۔ دراصل یہ لوگ اس ڈراوے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت کو مشکوک بات سمجھتے ہیں ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے ، وہ حق ہے اور حقیقت بننے والی ہے۔ اس دن ان کا ایمان ان کو کوئی نفع نہ دے گا۔ اور اس وقت ان سے جو غلطی ہوچکی ہوگی اس کی تلافی ممکن نہ ہوگی اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ ان کو چھوڑ دیا جائے وہ اپنے حتمی انجام تک پہنچنے والے ہیں۔