Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ash-Shu'ara 26:204

26:204
افبعذابنا يستعجلون ٢٠٤
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ٢٠٤
أَفَبِعَذَابِنَا
يَسۡتَعۡجِلُونَ
٢٠٤
それでもかれらは,われの懲罰を急がせようというのか。

— Ryoichi Mita

Vậy sao họ lại hối thúc hình phạt mau đến?

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 26:204 đến 26:207

افبعذابنا ……یمتعون (208)

ایک طرف ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس میں شتابی ہے اور دوسری جانب عذاب کا نزول ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ عیش و عشرت کی جو طویل زندگی وہ بسر کر رہے تھے وہ گویا تھی ہی نہیں۔ اس پوری زندگی میں انکے لئے کوء فائدہ نہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی ایسا عمل ہوگا جس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو۔

ایک صحیح حدیث میں ہے ” کافر کو لایا جائے گا اور آگ میں اسے ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی بھلائی (اور آرام) دیکھا بھی ہے ؟ کیا تم نے کوئی خوشحالی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں خدا کی قسم پروردگار میں نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اور پھر ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بدترین حالات میں تھا اور اسے جنت کا ایک رنگ دکھایا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا۔ کیا تو نے برے دن بھی کبھی دیکھے ہیں ؟ تو وہ کہے گا خدا کی قسم اے رب ذوالجلال ! مجھ پر تو برے دن کبھی آئے ہی نہیں۔ (ابن کثیر)

اس کے بعد ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ یہ جو تمہیں خبردار کیا جا رہا ہے تو اس لئے کہ تم پر ہلاکت بڑی تیزی سے آرہی ہے اور اللہ کی رحمت کا تو یہ تقاضا ہے کہ کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہ کرے جب تک رسول نہ آئے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔