Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ash-Shu'ara 26:209

26:209
ذكرى وما كنا ظالمين ٢٠٩
ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَـٰلِمِينَ ٢٠٩
ذِكۡرَىٰ
وَمَا
كُنَّا
ظَٰلِمِينَ
٢٠٩
(また)気付かせ(た後で)なければ。われは決して不当なことを行うものではない。

— Ryoichi Mita

Như một sự nhắc nhở (đến cư dân của nó) bởi lẽ TA không hề bất công.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 26:208 đến 26:209

وما اھلکنا من قریۃ الا لھا مذرون ، ذکری وما کنا ظلمین (209)

اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے یہ فطری عہد لیا ہے کہ وہ صرف اس کی بندگی کریں گے اور اسے وحدہ لاشریک سمجھیں گے۔ انسان کی فطرت از خود ایک خالق کائنات کے وجود کو تسلیم کرتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر فساد اور انحراف پیدا نہ ہوجائے۔ (پارہ 9 ، ص ……) اور پھر اللہ نے اس کائنات میں دلائل کو ڈھیر لگا دیا۔ یہ تمام دلائل اس بات کی طرف راہنمائی کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ اگر لوگ اس فطری عہد کو بھول جائیں اور دلائل ایمان پر غور نہ کریں تو پھر ان کے پاس ایک ڈرانے والا آتا ہے جو ان کو یہ فطری سبق یاد دلاتا ہے اور خواب غفلت سے ان کو جگاتا ہے۔ اس معنی میں رسالت ایک یاد دہانی اور سوئے ہئے لوگوں کو جگانے سے عبارت ہے اور یہ اللہ کا رحم و کرم ہے کہ اللہ نے اپنے اوپر پیغمبر بھیجنا لازم کردیا کہ ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیجیں۔ جب رسول آتا ہے اور لوگ پھر بھی نہیں مانتے ، نہیں یاد کرتے اور نہیں جاگتے تو یہ ان کی ناکامی ہوتی ہے اور وہ راہ ہدایت ترک کردیتے ہیں لہٰذا عذاب حق ہوجاتا ہے۔

قرآن کریم کے بارے میں ایک جدید بحث :