Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ash-Shu'ara 26:51

26:51
انا نطمع ان يغفر لنا ربنا خطايانا ان كنا اول المومنين ٥١
إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَـٰيَـٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٥١
إِنَّا
نَطۡمَعُ
أَن
يَغۡفِرَ
لَنَا
رَبُّنَا
خَطَٰيَٰنَآ
أَن
كُنَّآ
أَوَّلَ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
٥١
わたしたちの願いは,只主が,わたしたちの数々の過ちを赦され,わたしたちが信者たちの先がけになることです。」

— Ryoichi Mita

“Chúng tôi kỳ vọng Thượng Đế của chúng tôi sẽ tha thứ cho chúng tôi những lỗi lầm của chúng tôi bởi vì chúng tôi là những người có đức tin đầu tiên.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 26:49 đến 26:51

جادوگروں کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا فرعون کے ليے زبردست رسوائی کا باعث تھا۔ اس نے اس کے ازالہ کے ليے یہ کیا کہ اس پورے واقعہ کو سازش قرار دے دیا۔ اس نے کہا کہ تم لوگ موسیٰ کے ساتھ ملے ہوئے ہو۔ اور تم نے جان بوجھ کر ان کے مقابلہ میں اپنی شکست کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ موسیٰ کی بڑائی لوگوں کے دلوں پر قائم ہو اور تمھارے ليے اپنا مقصد حاصل کرنا آسان ہوجائے۔ فرعون نے جادوگروں کو اپنا یہ فیصلہ سنایا کہ تم لوگوں کو بغاوت کی سزا دی جائے گی۔ تمھارے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ کر تم کو برسر عام سولی پر چڑھا دیا جائے گا۔ اس شدید حکم کے باوجود جادو گر بے ہمت نہیں ہوئے۔ وہی جادو گر جو پہلے (آیت 41 ) فرعون کے اقبال کی قسم کھارہے تھے اوراس سے انعام واکرام کی درخواست کررہے تھے انھوںنے بالکل بے خوف ہو کر کہا کہ تم جو چاہے کرو اب موسیٰ کے دین سے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اس عالی، ہمتی کا سبب ایمانی دریافت تھی۔ آدمی کسی چیز کا کھونا اس وقت برداشت کرتاہے جب کہ اس کو کھو کر وہ زیادہ بڑی چیز پارہا ہو۔ ایمان سے پہلے جادوگروں کے پاس سب سے بڑی چیز فرعون اور اس کا انعام تھا۔ مگر ایمان کے بعد ان کو خدا اور اس کی جنت سب سے بڑی چیز نظر آنے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان سے پہلے جس چیز کی قربانی وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے ایمان کے بعد نہایت خوشی سے وہ اس کی قربانی دینے پر راضی ہوگئے۔