Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ash-Shu'ara 26:7

26:7
اولم يروا الى الارض كم انبتنا فيها من كل زوج كريم ٧
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلْأَرْضِ كَمْ أَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍۢ كَرِيمٍ ٧
أَوَلَمۡ
يَرَوۡاْ
إِلَى
ٱلۡأَرۡضِ
كَمۡ
أَنۢبَتۡنَا
فِيهَا
مِن
كُلِّ
زَوۡجٖ
كَرِيمٍ
٧
かれらは,かの大地を見ないのか。如何に多くの,凡ての尊いものを,われはそこで育てるかを。

— Ryoichi Mita

Lẽ nào họ đã không quan sát trái đất, nơi mà TA đã làm mọc ra biết bao cây cối tốt lành?

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 26:7 đến 26:8

اولم ……مئومنین (8)

1033

اس مردہ زمین سے ایک گونہ زندہ نباتات کا نکالنا کیا کم معجزہ ہے۔ پھر ان نباتات سے نر اور مادہ بنانا۔ بعض انواع میں نر اور مادہ علیحدہ علیحدہ پودوں میں ہوتے ہیں اور یا پھر ایک ہی پودے میں نر اور مادہ پھول ہوتے ہیں جیسا کہ اکثر نباتات میں ہوتا ہے یعنی ایک ہی شاخ میں نر اور مادہ اجزا ہوتے ہیں اور یہ معجزہ ان کے ماحول میں رات دن رونما ہوتا رہتا ہے۔

اولم یروا (26 : 8) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا ہے۔ یہ ایسے معجزات ہیں کہ جن کے صرف ایک ہی مشاہدے کی ضرورت ہے۔ قرآن کے نظام تربیت کا یہ خاص انداز ہے کہ قرآن انسانی دل و دماغ کو اس کائنات کے مشاہد پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن بجھے ہوئے احساس کو جگاتا ہے کند ذہن کو تیز کرتا ہے اور بند قوائے مدرکہ کو آزاد کرتا ہے اور ان کو اس کائنات میں پائے جانے والے ان معجزات کی متوجہ کرتا ہے جو قدم قدم پر بکھرے ہوئے ہیں تاکہ انسان ایک زندہ دل دماغ کے ساتھ اس کائنات کو دیکھے۔ اللہ کی عجیب و غریب مصنوعات کو دیکھے اور اسے اللہ کا شعور حاصل ہو اور وہ اللہ کی معرفت اللہ کے عجائب مخلوقات کے ذریعے حاصل کرے اور وہ اللہ سے ہر وقت ڈرا رہے اور اسے یہ شعور ہو کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ پھر ہر انسان کو یہ شعور ہو کہ اللہ کی مخلوقات میں سے صرف وہی ہے جو یہ شعور رکھتا ہے ۔ اور اللہ کی مخلوقات سے بھی وابستہ ہے اور اللہ کے اس ناموس فطرت کیساتھ بھی پیوستہ ہے۔ جس کو اللہ نے اس کائنات کے اندر جاری وساری کر رکھا ہے۔ پھر اسے یہ بھی شعور ہو کہ اس کائنات میں اس نے ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔ خصوصاً کے اندر جاری وساری کر رکھا ہے ۔ پھر اسے یہ بھی شعور ہو کہ اس کائنات میں اس نے ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔ خصوصاً اس کرہ ارض کے حوالے سے تو اس کے کاندھوں پر ایک خاص ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔

اولم یروا الی الارض کم انبتنا فیھا من کل زوج کریم (62 : 8) ” کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں۔ “ یہ نہایت ہی عمدہ ہیں ، اس لئے کہ ان کے اندر زندگی ہے اور یہ زندگی رب کریم نے ان کے اندر پیدا کی ہے۔ لفظ کریم سے اللہ یہ تاثر دیتا ہے کہ اللہ کی صنعت کاریوں کو نہایت ہی توجہ ، اہمیت اور تکریم کی نگاہوں سے دیکھنا چاہئے۔ یہ کوئی معمولی حقائق نہیں ہیں کہ ان پر سے محض ایک نادان اور غافل کی طرح گزرا جائے۔

ان فی ذلک لایۃ (26 : 8) ” ان میں تو یقینا ایک نشانی ہے۔ “ ان کے علاوہ مزید نشانیاں طلب کرنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔ حالانکہ یہ لوگ ان پیش پا افتادہ نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے۔

وما کان اکثرھم مئومنین (26 : 8) ” مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ “ سورت کا یہ دیباچہ ایک ایسے سبق آموز فقرے پر ختم ہوتا ہے۔ جو اس سورت میں بار بار دہرایا گیا ہے۔