Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ash-Shu'ara 26:73

26:73
او ينفعونكم او يضرون ٧٣
أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ ٧٣
أَوۡ
يَنفَعُونَكُمۡ
أَوۡ
يَضُرُّونَ
٧٣
またかれら(偶像)は,あなたがたを益するのですか,それとも害するのですか。」

— Ryoichi Mita

“Hoặc chúng có giúp ích hay hãm hại được các người không?”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 26:72 đến 26:73

قال ھل ……یضرون (73)

کسی الہہ کی کم از کم جو خاصیت ہونا چاہئے کہ وہ سنے اور سوال و جواب کرے۔ کم از کم کوئی اپنے اس بندے جیسا تو ہونا چاہئے جو اس کی عبادت کر رہا ہے اور اس کے سامنے گڑ گڑارہا ہے۔ یہ الہہ تو نہ سنتے ہیں اور نہ گویا ہیں اور نہ ہی کوئی نفع و ضرور دے سکتے ہیں۔ اگر یہ سن ہی نہیں سکتے ، بہرے ہیں تو پھر نفع و نقصان کیسے دیں گے۔ اس لئے ان کو کسی صورت میں پکارنا جائز نہیں ہے۔

لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوالات میں سے کسی کا جواب نہ دیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم ان کے ساتھ سخت مذاق کر رہے ہیں اور ان کے بتوں اور ان کی روش پر تنقید کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کا کوئی جواب ہی نہ تھا۔ ان کا جواب بس یہ تھا جو ہر شخص کا جواب ہوتا ہے جو بےسوچے سمجھے تنقید کرتا ہے۔