— Ryoichi Mita
— Ruwwad Center
آیت نمبر 47
اس کے بعد انسان کے عمومی مزاج کو ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ انسان جو دعوت اسلامی اور سچائی کا مقابلہ کرتا ہے اور رسول برحق سے عناد رکھتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اذیت و عذاب کا مستحق گردانتا ہے تو اس کی حالت یہ ہے کہ جب کسی اذیت میں یہ مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کی قوت برداشت جواب دے دیتی ہے۔ جزع فزع اور آہ و فغاں شروع کردیتا ہے اور اگر اللہ کی کوئی نعمت مل جائے تو ہواؤں پر اڑنے لگتا ہے۔ اور حدود پار کرلیتا ہے جبکہ سختی میں مایوس اور کافر ہوجاتا ہے۔