Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ash-Shuraa 42:49

42:49
لله ملك السماوات والارض يخلق ما يشاء يهب لمن يشاء اناثا ويهب لمن يشاء الذكور ٤٩
لِّلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَـٰثًۭا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ ٤٩
لِّلَّهِ
مُلۡكُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
يَخۡلُقُ
مَا
يَشَآءُۚ
يَهَبُ
لِمَن
يَشَآءُ
إِنَٰثٗا
وَيَهَبُ
لِمَن
يَشَآءُ
ٱلذُّكُورَ
٤٩
天と地の大権は,アッラーの有である。かれは御心のままに創られる。かれは,御望みの者に女児を授け,また御望みの者に男児を授けられる。

— Ryoichi Mita

Quyền thống trị các tầng trời và trái đất thuộc về một mình Allah. Ngài tạo hóa bất cứ thứ gì Ngài muốn. Ngài muốn ban con gái cho ai là tùy ý Ngài và ban con trai cho ai cũng tùy ý Ngài.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 42:49 đến 42:50
اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے ٭٭

فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے یحییٰ اور عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے۔

پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ «وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ» [ 19-مريم: 21 ] ‏ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا آدم علیہ السلام صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حواء صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہو گئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اس کی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی۔

صفحہ نمبر8191