Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: At-Taghabun 64:7

64:7
زعم الذين كفروا ان لن يبعثوا قل بلى وربي لتبعثن ثم لتنبون بما عملتم وذالك على الله يسير ٧
زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن لَّن يُبْعَثُوا۟ ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌۭ ٧
زَعَمَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوٓاْ
أَن
لَّن
يُبۡعَثُواْۚ
قُلۡ
بَلَىٰ
وَرَبِّي
لَتُبۡعَثُنَّ
ثُمَّ
لَتُنَبَّؤُنَّ
بِمَا
عَمِلۡتُمۡۚ
وَذَٰلِكَ
عَلَى
ٱللَّهِ
يَسِيرٞ
٧
不信心な者は,甦りなどはないと主張する。言ってやるがいい。「そうではない。主に誓って言う。あなたがたは必ず甦るのである。それからあなたがたの行なったことが,必ず告げ知らされる。それはアッラーにおいては容易なことである。

— Ryoichi Mita

Những kẻ vô đức tin tuyên bố rằng chúng sẽ không được dựng sống trở lại. Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) hãy nói với chúng: “Không như các ngươi khẳng định, Ta thề bởi Thượng Đế của Ta, chắc chắc các ngươi sẽ được dựng sống trở lại. Rồi các ngươi sẽ được Ngài cho biết về những điều mà các ngươi đã làm. Và điều đó đối với Allah thật dễ dàng.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 64:7 đến 64:10
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں “۔

یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔

پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» [10-یونس:53] ‏ یعنی ” یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے “۔

دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» [34-سبأ:3] ‏ ” کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی “۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» [64-التغابن:7] ‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود:103] ‏ ” یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے “۔

اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] ‏ یعنی ” قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔‏“

گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟

صفحہ نمبر9543