Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: At-Talaq 65:6

65:6
اسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن وان كن اولات حمل فانفقوا عليهن حتى يضعن حملهن فان ارضعن لكم فاتوهن اجورهن واتمروا بينكم بمعروف وان تعاسرتم فسترضع له اخرى ٦
أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا۟ عَلَيْهِنَّ ۚ وَإِن كُنَّ أُو۟لَـٰتِ حَمْلٍۢ فَأَنفِقُوا۟ عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ وَأْتَمِرُوا۟ بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍۢ ۖ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُۥٓ أُخْرَىٰ ٦
أَسۡكِنُوهُنَّ
مِنۡ
حَيۡثُ
سَكَنتُم
مِّن
وُجۡدِكُمۡ
وَلَا
تُضَآرُّوهُنَّ
لِتُضَيِّقُواْ
عَلَيۡهِنَّۚ
وَإِن
كُنَّ
أُوْلَٰتِ
حَمۡلٖ
فَأَنفِقُواْ
عَلَيۡهِنَّ
حَتَّىٰ
يَضَعۡنَ
حَمۡلَهُنَّۚ
فَإِنۡ
أَرۡضَعۡنَ
لَكُمۡ
فَـَٔاتُوهُنَّ
أُجُورَهُنَّ
وَأۡتَمِرُواْ
بَيۡنَكُم
بِمَعۡرُوفٖۖ
وَإِن
تَعَاسَرۡتُمۡ
فَسَتُرۡضِعُ
لَهُۥٓ
أُخۡرَىٰ
٦
かの女たちを,あなたがたの暮している所であなたがたの力に応じて住まわせなさい。かの女らを窮屈にして,困らせてはならない。もし妊娠しているならば,出産するまでの費用を,かの女たちに与えなさい。もしかの女たちがあなたがたのため(子)に授乳する場合は,その報酬を与え,あなたがたの間で,正しく相談しなさい。あなたがた(夫婦)がもし話がまとまらなければ,外の女が授乳してもよい。

— Ryoichi Mita

Các ngươi (hỡi những người chồng) hãy để (những người vợ của các ngươi) ở nơi nào mà các ngươi ở tùy theo điều kiện của các ngươi; các ngươi không được gây khó khăn cho họ nhằm ép bức họ. Nếu họ mang thai, các ngươi hãy chu cấp cho họ đến khi họ sinh con. Nếu họ giúp các ngươi cho con bú, các ngươi hãy trả tiền công cho họ và các ngươi hãy trao đổi ý kiến lẫn nhau một cách biết điều và hợp lý, nhưng nếu các ngươi gặp khó khăn (trong việc cho con bú) thì hãy tìm người phụ nữ khác (giúp người chồng) cho con bú.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اسکنوھن من ....................................

یہ آخری بیان ہے جس میں گھروں میں رہائش کے مسئلے کو لیا گیا ہے اور عدت کے دوران نفقہ کے مسئلہ کو لیا گیا ہے جو بھی عدت کی مدت قرار پائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس قسم کی رہائش بھی ہو ، خاوند کو چاہئے کہ وہ بیوی کو فراہم کرے۔ جس طرح کی رہائش میں وہ خود رہتا ہے اور جس قدر وہ اپنی مالی پوزیشن کے مطابق فراہم کرسکتا ہے ۔ باہم برتاﺅ میں نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ ہو۔ نہ مکان میں تنگی کی جائے ، نہ عزت میں کمی کی جائے ، اور نہ دوسرے معاملات میں مثلاً گفتگو وغیرہ میں۔ حاملہ عورتوں کے نفقے کو مخصوص طور پر ذکر کیا گیا حالانکہ ہر قسم کی عدت گزارنے والی عورتوں کے لئے نفقہ واجب ہے۔ کیونکہ حمل میں مدت بعض اوقات طویل ہوجاتی ہے اور یہ خیال ہوسکتا ہے کہ تین مہینے ہی نفقہ واجب ہے یا حمل اگر طلاق کے بعد صرف مختصر ترین وقت وضع ہوجائے تو پھر یہ وہم ہوسکتا ہے کہ شاید زیادہ مدت کے لئے نفقہ دیتا ہوگا۔ لہٰذا اس کا تعین کردیا گیا یعنی جب تک قانونی مدت عدت ختم نہیں ہوجاتی خواہ مختصر ہو یا طویل۔

اس کے بعد دودھ پلانے کے مسئلہ کی تفصیلات دی گئیں۔ دودھ پلانا بغیر معاوضہ کے ماں کی ذمہ داری نہیں قرار دی گئی۔ جب تک وہ دونوں کے مشترکہ بچے کو دودھ پلارہی ہے تو اس کا حق ہے کہ اسے اس خدمت کا معاوضہ ملے کہ وہ زندہ رہ سکے اور بچے کے لئے دودھ بھی جاری ہو۔ یہ ہیں اسلامی نظام قانون کی وہ رعائتیں جو ماں کو دی گئیں۔ ان رعائیتوں کے ساتھ دونوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ اس بچے کے معاملات کو باہم مشورہ سے طے کریں۔ اور بچے کی مصلحت کو پیش نظر رکھیں کہ وہ دونوں کے درمیان ایک امانت ہے۔ یہ نہ ہو کہ دونوں کی مشترکہ زندگی کی ناکامی اس بچے کے ئے مصیبت بن جائے۔ جس کا کوئی قصور نہیں ہے۔

یہ ہے وہ حسن سلوک جس کی طرف دونوں کو دعوت دی جاتی ہے۔ اگر انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اور رضاعت اور اس کے اجر کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق نہ ہوسکا تو بچے کو تو بہرحال دودھ پلانا ہے ، کوئی اور پلائے گی۔

فسترضع لہ اخری (56 : 6) ” تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلائے گی “۔ نہ ماں کا اعتراض ہوگا اور نہ بچے کو دودھ سے محروم کرکے مار دیا جائے گا کیونکہ ان کی مشرکہ زندگی تحلیل ہوئی اور پھر انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سختی کی ، بچے کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔