Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: At-Tawbah 9:107

9:107
والذين اتخذوا مسجدا ضرارا وكفرا وتفريقا بين المومنين وارصادا لمن حارب الله ورسوله من قبل وليحلفن ان اردنا الا الحسنى والله يشهد انهم لكاذبون ١٠٧
وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مَسْجِدًۭا ضِرَارًۭا وَكُفْرًۭا وَتَفْرِيقًۢا بَيْنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًۭا لِّمَنْ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَآ إِلَّا ٱلْحُسْنَىٰ ۖ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَـٰذِبُونَ ١٠٧
وَٱلَّذِينَ
ٱتَّخَذُواْ
مَسۡجِدٗا
ضِرَارٗا
وَكُفۡرٗا
وَتَفۡرِيقَۢا
بَيۡنَ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
وَإِرۡصَادٗا
لِّمَنۡ
حَارَبَ
ٱللَّهَ
وَرَسُولَهُۥ
مِن
قَبۡلُۚ
وَلَيَحۡلِفُنَّ
إِنۡ
أَرَدۡنَآ
إِلَّا
ٱلۡحُسۡنَىٰۖ
وَٱللَّهُ
يَشۡهَدُ
إِنَّهُمۡ
لَكَٰذِبُونَ
١٠٧
また(イスラームの)妨害と不信心(の助長)のために,一座のマスジドを建立した者があり,それで信者の間を分裂させ,また先にアッラーとその使徒に対して戦った者のための,隠れ家とする者がある。しかも(口先では),「わたしたちは,只善いことを行うだけです。」と誓 う。だがアッラーは,かれらが確かに偽っていることを立証される。

— Ryoichi Mita

Những kẻ (giả tạo đức tin) đã xây dựng Masjid với ý đồ gây tổn hại (những người Muslim), thể hiện sự bất tuân và gây chia rẽ giữa những người có đức tin và để làm nơi đóng quân cho những ai đã từng gây chiến với Allah và Thiên Sứ của Ngài trước đây. Và chúng thề, tuyên bố: “Chúng tôi chỉ có ý định làm điều tốt mà thôi”. Nhưng Allah xác nhận rằng chúng đích thực là những kẻ nói dối.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 9:107 đến 9:110

زندگی کی تعمیر کی دو بنیادیں ہیں ۔ ایک تقویٰ، دوسرے ظلم۔ پہلی صورت یہ ہے کہ خدا کے ڈر کی بنیاد پر زندگی کی عمارت اٹھائی جائے۔ آدمی کی تمام سرگرمیاں جس فکر کےما تحت چل رہی ہوں وہ فکر یہ ہو کہ اس کو اپنے تمام قول وفعل کا حساب ایک ایسی ہستی کو دینا ہے جو کھلے اور چھپے سے باخبر ہے ا ور ہر ایک کو اس کے حقیقی کارناموں کے مطابق جزا یا سزا دینے والا ہے۔ ایسا شخص گویا مضبوط چٹان پر اپنی عمارت کھڑی کررہا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اس قسم کے اندیشہ سے خالی ہو۔ وہ دنیا میں بالکل بے قید زندگی گزارے۔ وہ کسی پابندی کو قبول كيے بغیر جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ ایسے شخص کی زندگی کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ایسی کھائی کے کنارے اٹھا دی گئی ہو جو بس گرنے ہی والی ہو اور اچانک ایک روز اس کا مکان اپنے مکینوں سمیت گہرے کھڈ میں گر پڑے۔

جو لوگ ظلم کی بنیاد پر اپنی زندگی کی عمارت اٹھاتے ہیں ان کے جرائم میں سب سے زیادہ سخت جرم وہ ہے جس کی مثال مدینہ میں مسجد ضرار کی صورت میں سامنے آئی۔ اس وقت مدینہ میں دو مسجدیں تھیں ۔ ایک آبادی کے اندرمسجد نبوی۔ دوسری مضافات میں مسجد قبا۔ منافق مسلمانوں نے اس کے توڑ پر ایک تیسری مسجد تعمیر کرلی۔ اس قسم کی کارروائی بظاہراگر چہ دین کے نام پر ہوتی ہے مگر حقیقۃً اس کا مقصد ہوتا ہے اپنی قیادت اور پیشوائی کو قائم رکھنے کی خاطر دعوتِ حق کا مخالف بن جانا۔ جو لوگ اپنی خود پرستی کی وجہ سے دعوت حق کو قبول نہیں کرپاتے وہ اس کے خلاف محاذ بنا تے ہیں ، اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں ۔ ان کی منفی سرگرمیاں مسلمانوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیتی ہیں ۔ ایسے لوگ اپنے تخریبی عمل کو دین کے نام پر کرتے ہیں ۔ حتی کہ وہ مسلّمہ دینی شخصیتوں کو اپنے اسٹیج پر لانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں انھیں اعتماد حاصل ہوجائے۔

یہ لوگ اپنی اندھی دشمنی میں بھول جاتے ہیں کہ حق کی مخالفت دراصل خدا کی مخالفت ہے جو خدا کی دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایسے لوگوں کے ليے جو چیز مقدر ہے وہ صرف یہ کہ وہ حسرت وافسوس کے ساتھ مریں اور اللہ کی رحمتوں سے ہمیشہ کے ليے محروم ہوجائیں ۔