Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: At-Tawbah 9:44

9:44
لا يستاذنك الذين يومنون بالله واليوم الاخر ان يجاهدوا باموالهم وانفسهم والله عليم بالمتقين ٤٤
لَا يَسْتَـْٔذِنُكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ أَن يُجَـٰهِدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُتَّقِينَ ٤٤
لَا
يَسۡتَـٔۡذِنُكَ
ٱلَّذِينَ
يُؤۡمِنُونَ
بِٱللَّهِ
وَٱلۡيَوۡمِ
ٱلۡأٓخِرِ
أَن
يُجَٰهِدُواْ
بِأَمۡوَٰلِهِمۡ
وَأَنفُسِهِمۡۗ
وَٱللَّهُ
عَلِيمُۢ
بِٱلۡمُتَّقِينَ
٤٤
アッラーと終末の日とを信じる者は,自分の財産と生命を捧げて奮闘することを(免れようなどと),あなたに求めたりはしない。アッラーは主を畏れる者を熟知される。

— Ryoichi Mita

Những người (thực sự) có đức tin nơi Allah và Đời Sau sẽ không xin phép Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) được miễn tham gia chinh chiến bằng tài sản và sinh mạng của họ. Thật vậy, Allah biết rõ những người ngoan đạo.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 9:44 đến 9:45

حضور نے چونکہ منافقین کے نفاق کا انکشاف نہ کیا تھا ، اس لیے اللہ نے یہاں ایسے اصول اور ایسی صفات کو بیان کردیا جن کی روشنی میں منافقین کو اچھی طرح پہانا جاسکے۔ اور یہ صفات مومنین اور منافقین کے درمیان امتیازی سفات ہوں۔

لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ الخ : جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے ، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں

یہ وہ اصول ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ جو لوگ صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور جن کو یقین ہوتا ہے کہ ایک دن انہوں نے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ وہ اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت لیں۔ اور جب بھی ان کو اللہ کی راہ میں جان اور مال قربان کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ ایک منٹ کے لیے بھی پس و پیش نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ہلکے ہوں یا بوجھل ہوں ، اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ، اطاعت امیر کرتے ہیں اور ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کو پوری پوری جزا دے گا اور ان سے راضی ہوگا وہ جہاد کے لیے اس قدر بےتاب ہوتے ہیں کہ از خود اس عمل کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی ضرور نہیں پڑتی کہ کوئی انہیں اس کے لیے جوش دلائے ، جہاد سے پیچھے رہنے کے لیے عذرات پیش کرنا تو بہت بڑی بات ہے۔ عذرات تو صرف وہ لوگ پیش کرتے ہیں جن کے دل ایمان و یقین کی دولت سے خالی ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ پس و یش کرتے ہیں اور عذرات تلاش کرکے چھٹیاں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس عقیدے کا انہوں نے اظہار کیا ہے اس کے تقاضے پورے کرنے سے ان کی راہ میں رکاوٹیں ہیں در حقیت وہ شک کے مریض ہوتے ہیں اور متردد ہوتے ہیں۔

اللہ کی طرف جو راستہ جاتا ہے وہ واضح ہے اور بالکل سیدھا ہے۔ اس سلسلے میں تردد اور پس و پیش وہی شخص کرسکتا ہے جو دولت یقین سے محروم ہو یا وہ شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول برحق ہیں۔ لیلکن ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے وہ مشکلات کی راہ سے گھبرا جاتا ہے۔