Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: At-Tawbah 9:69

9:69
كالذين من قبلكم كانوا اشد منكم قوة واكثر اموالا واولادا فاستمتعوا بخلاقهم فاستمتعتم بخلاقكم كما استمتع الذين من قبلكم بخلاقهم وخضتم كالذي خاضوا اولايك حبطت اعمالهم في الدنيا والاخرة واولايك هم الخاسرون ٦٩
كَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةًۭ وَأَكْثَرَ أَمْوَٰلًۭا وَأَوْلَـٰدًۭا فَٱسْتَمْتَعُوا۟ بِخَلَـٰقِهِمْ فَٱسْتَمْتَعْتُم بِخَلَـٰقِكُمْ كَمَا ٱسْتَمْتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُم بِخَلَـٰقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَٱلَّذِى خَاضُوٓا۟ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ ٦٩
كَٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِكُمۡ
كَانُوٓاْ
أَشَدَّ
مِنكُمۡ
قُوَّةٗ
وَأَكۡثَرَ
أَمۡوَٰلٗا
وَأَوۡلَٰدٗا
فَٱسۡتَمۡتَعُواْ
بِخَلَٰقِهِمۡ
فَٱسۡتَمۡتَعۡتُم
بِخَلَٰقِكُمۡ
كَمَا
ٱسۡتَمۡتَعَ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِكُم
بِخَلَٰقِهِمۡ
وَخُضۡتُمۡ
كَٱلَّذِي
خَاضُوٓاْۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
حَبِطَتۡ
أَعۡمَٰلُهُمۡ
فِي
ٱلدُّنۡيَا
وَٱلۡأٓخِرَةِۖ
وَأُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡخَٰسِرُونَ
٦٩
あなた以前の民と同じように(あなたがたもそうである)。かれらは,その力はあなたがたよりも強く,財産と子女でも遥かに多かった。かれらはその福分を享楽した。それであなたがた以前の者がその福分を享楽したように,あなたがたの福分を享楽する。またかれらが耽ったように,あなたがたも(無駄話に)耽っている。これらの者の行いは,現世でもまた来世でも,実を結ばない。これらの者こそ失敗者である。

— Ryoichi Mita

(Hỡi những người giả tạo đức tin,) các ngươi giống những kẻ trước các ngươi. Chúng hơn các ngươi về sức mạnh, tài sản và đông con, chúng đã hưởng thụ những thứ được ghi cho chúng. Vì vậy, các ngươi cứ hưởng thụ những thứ được ghi cho các ngươi giống như những kẻ trước các ngươi, và các ngươi cứ tiếp tục nhạo báng giống như những kẻ trước các ngươi đã nhạo báng. Đó là những kẻ mà việc làm (thiện tốt) của chúng không có kết quả gì ở trần gian cũng như ở Đời Sau và chúng thực sự là những kẻ thất bại.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

منافقوں کا بےعمل ، منحرف اور گمراہ طبقہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ رہتا ہے۔ یہ کسی بھی وقت انوکھا نہیں رہا ہے۔ اسلام سے قبل بھی انسانی تاریخ میں اس کے نمونے موجود رہے ہیں اور ادوار سابقہ کے منافقین کا انجام بھی ان کے فسق و فجور کے مطابق ایسا ہی رہا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی فطرت میں کجی آجاتی ہے اور وہ صحیح راہ پر نہیں چلتے۔ اس سے قبل جو کافر اور منافق گزرے ہیں وہ حضور کے دور کے منافقین سے زیادہ مادار اور زیادہ افرادی قوت کے مالک تھے۔ لیکن یہ مالی اور افرادی وسائل انہیں نہ بچا سکے۔

قرآن کریم امم سابقہ کے منافقین کی طرف اشارہ کرکے انہیں بتاتا ہے کہ دیکھو تم ان لوگوں ہی کے راستے پر تو چل رہے ہو۔ آخر کیوں تمہارا انجام ان سے مختلف ہوگا۔

قوت کا فتنہ بھی خطرناک فتنہ ہوتا ہے۔ مالی قوت اور افرادی قوت سے انسان فتنے میں پڑجاتا ہے۔ جن لوگوں کا رابطہ بڑی قوت سے ہوتا ہے وہ چھوٹی قوتوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ صرف قوی تر قوت سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ سمع و اطاعت اس بڑی قوت کی کرتے ہیں اور اس بڑی قوت کی بات کو اونچا کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر مالی قوت اور افرادی قوت اثر نہیں کرتی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مال و دولت اور انصآر و اولاد دینے والا تو اللہ ہے جو برتر قوت ہے۔ لہذا اگر ان کے پاس نعمت آجائے تو وہ شکر ادا کرنے میں بہت حریص ہوتے ہیں اور وہ مالی قوت اور افرادی قوت کو بھی اللہ کی اطاعت میں کھپا دیتے ہیں اور جن لوگوں کی فطرت میں انحراف ہوتا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اس قوت کا سرچشمہ کیا ہے۔ تو وہ تکبر ، غرور اور سرکشی اختیار کرلیتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو کھانے پینے تک محدود کردیتے ہیں جس طرح مویشی کھاتے تپیتے ہیں۔

اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : " سو ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میں ان کا سب کیا دھرا ضائع ہوگیا اور وہی خسارے میں ہیں "

حبط اعمال کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال بنیاد ہی سے باطل ہوگئے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے پودے کے مانند تھے جس کی جڑیں نہ تھیں۔ اس قسم کا پودا نہ سرسبز ہوا ہے اور منہ پھلتا پوھلتا ہے۔ اور ایسا پودا لگانے والے آخر کار گھاٹے میں ہوتے ہیں اور ان کا گھاٹا ہمہ گیر ہوتا ہے۔