Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: At-Tawbah 9:84

9:84
ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره انهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون ٨٤
وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٍۢ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًۭا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِۦٓ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ فَـٰسِقُونَ ٨٤
وَلَا
تُصَلِّ
عَلَىٰٓ
أَحَدٖ
مِّنۡهُم
مَّاتَ
أَبَدٗا
وَلَا
تَقُمۡ
عَلَىٰ
قَبۡرِهِۦٓۖ
إِنَّهُمۡ
كَفَرُواْ
بِٱللَّهِ
وَرَسُولِهِۦ
وَمَاتُواْ
وَهُمۡ
فَٰسِقُونَ
٨٤
かれらの中の誰かが死んでも,あなたは決してかれのために,(葬儀の)礼拝を捧げてはならない。またその墓の側に立ってはならない。本当にかれらは,アッラーとその使徒を信じないまま主の掟に背く者として死んだのである。

— Ryoichi Mita

Ngươi (hỡi Thiên Sứ Muhammad) không được dâng lễ nguyện Salah cho bất cứ ai chết đi trong bọn chúng và Ngươi không được đứng bên mộ của y. Quả thật, chúng đã vô đức tin nơi Allah và Thiên Sứ của Ngài, và chúng đã chết trong tình trạng bất tuân.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اس آیت کے پس منظر کے بارے میں بھی مفسرین نے متعین واقعات ذکر کیے ہیں لیکن اس آیت کا مفہوم ان واقعات سے عام ہے۔ یہاں اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں جدوجہد کرنے والے گروہ کے بارے میں ایک اصول وضع کیا گیا ہے۔ یہ کہ اس جدوجہد کے معاملے میں جو لوگ عیش کوش ، آرام پسند ہیں اور مشکلات کو انگیز نہیں کرتے اور مشکل مہمات میں شامل نہیں ہوتے ، اسلامی قیادت کی طرف سے ایسے لوگوں کے ساتھ نہ نرمی برتی جائے اور نہ ایسے لوگوں کو اعزاز دیا جائے۔ اسلامی صفوں سے ایسے لوگوں کو دور رکھا جائے یا نہایت ہی پچھلی صفوں اور میں اور اس معاملے میں کوئی نرمی ، حسن سلوک یا رواداری نہ برتی جائے۔

یہاں اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا جنازہ نہ پڑھا جائے اور ان کی قبر پر آپ کھڑے نہ ہوں کیونکہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا اور یہ لا عمل فاسق تھے اور منافق تھے۔ لیکن اس حکم سے جو عمومی اصول نکلتا ہے وہ زیادہ عام ہے۔ کیونکہ نماز جنازہ اور قبر پر کھڑے ہونے سے میت کو اعزاز ملتا ہے اور اسی اعزاز کے یہ لوگ مستحق نہیں ہیں۔ خصوصً جو لوگ نہایت ہی مشکل وقت میں مجاہدین کی صفوں میں کھڑے نہیں ہوتے ان کو اعزاز نہ دیا جائے تاکہ لوگوں کو اسلامی جدوجہد کی اہمیت معلوم ہو۔ اور کارکنوں کو معلوم ہو کہ اس معاملے میں اعزاز کے مستحق وہی لوگ ہوتے ہیں جو عملی جدوجہد کریں گے ، مشکلات کو انگیز کریں گے۔ مشکلات میں ثابت قدم رہیں گے۔ تب جا کر وہ اسلامی صفوں میں معزز ، مکرم اور ممتاز ہوں گے۔ اسلامی تحریک میں ایسے لوگوں کو نہ ظاہری اعزاز دیا جائے اور نہ باطنی۔