Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Az-Zukhruf 43:51

43:51
ونادى فرعون في قومه قال يا قوم اليس لي ملك مصر وهاذه الانهار تجري من تحتي افلا تبصرون ٥١
وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِى قَوْمِهِۦ قَالَ يَـٰقَوْمِ أَلَيْسَ لِى مُلْكُ مِصْرَ وَهَـٰذِهِ ٱلْأَنْهَـٰرُ تَجْرِى مِن تَحْتِىٓ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ٥١
وَنَادَىٰ
فِرۡعَوۡنُ
فِي
قَوۡمِهِۦ
قَالَ
يَٰقَوۡمِ
أَلَيۡسَ
لِي
مُلۡكُ
مِصۡرَ
وَهَٰذِهِ
ٱلۡأَنۡهَٰرُ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِيٓۚ
أَفَلَا
تُبۡصِرُونَ
٥١
そしてフィルアウンはその民に宣告して言った。「わが民よ,エジプト国土,そしてこれら足もとを流れる川は,わたしのものではないのですか。あなたがたは(そんなことが)分らないのですか。

— Ryoichi Mita

Pha-ra-ông đã tuyên bố với đám dân của hắn: “Này hỡi dân ta! Chẳng phải quyền thống trị xứ Ai Cập (này) cũng như những con sông đang chảy bên dưới ta đều nằm trong tay ta đó sao? Lẽ nào các ngươi không nhìn thấy?”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 43:51 đến 43:53

آیت نمبر 51 تا 53

مصر کی بادشاہت ، مصر کی نہریں فرعون کے زیر انتظام تھیں اور جمہور عوام کو نظر آتی تھیں۔ یہ ان کی آنکھوں کو چکا چوند کردیتی تھیں۔ اس لیے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے ۔ رہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہت جس میں مصر ایک ذرہ ہے ، تو اس کو سمجھنے کے لئے مومن دلوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جو اس بات کو سمجھ سکیں اور اللہ کی بادشاہت اور مصر کی بادشاہت کے درمیان موازنہ کرسکیں۔

رہے غلامی کے خوگر عوام جن کا ہر دور میں استحصال کیا جاتا ہے تو ان کو قریب کی دنیاوی چمک دمک متاثر کردیتی ہے اس لیے ان کی نظریں ، ان کے دل اور ان کے دماغ اللہ کی بلند حکومت اور بادشاہت کو سمجھنے کے لئے سر بلند ہی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان عوام کے غافل اور سطحی دلوں کے سامنے ترقیات کا زرق برق نقشہ پیش کیا اور کہا۔

ام انا خیر ۔۔۔۔۔ یکاد یبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ یہاں ذلت سے اس کی مراد یہ تھی کہ یہ نہ امیر ہے ، نہ صاحب اقتدار اور نہ اس کے پاس نظر آنے والی مالی پوزیشن ہے۔ لفظ ام سے وہ اشارہ بنی اسرائیل کی غلام قوم کی طرف کرتا ہے ، اور “ اپنی بات کھول کر بیان نہیں کر سکتا ” اس طرف کہ مصر سے جانے سے پہلے آپ کی زبان میں لکنت تھی۔ یہ پہلے کی بات تھی ورنہ اب لکنت نہ تھی۔ حضرت موسیٰ علی السلام نے دعا فرمائی تھی۔

رب اشرح لی ۔۔۔۔۔۔ یفقھوا قولی “ اے میرے رب میرے سینہ کو کھول دے ، میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے ، اور میری زبان میں لکنت ہے ، اسے کھول دے تا کہ وہ میری بات کو سمجھیں ”۔ اس وقت آپ کی زبان کا عقدہ کھل گیا تھا اور آپ اب بات بیان کرسکتے تھے۔

اور جمہور عوام کا ظاہر ہے کہ فیصلہ یہی ہوگا کہ فرعون جو مصر کا بادشاہ ہے ، مصر میں نہریں اس نے جاری کر رکھی ہیں۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بہتر ہوگا ۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تو حق بات ، نبوت کا پیغام ، نجات کی دعوت اور دردناک عذاب سے بچنے کی راہ تھی۔

فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ”۔ یہ ہے ذہنیت وڈیروں کی۔ اس دنیا کا حقیر سازو سامان ، نبوت کی حقانیت کے لئے بطور علامت تجویز ہو رہا ہے۔ سونے کے کنگن ، ان معجزات سے بھاری ہوگئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئے۔ مطلب یہ تھا کہ اسے مصر کا اقتدار کیوں نہیں دیا گیا۔ کیونکہ مصر کے بادشاہ کی تاج پوشی کے موقعہ پر سونے کے کنگن اتارے جاتے تھے۔ یہ ان کی رسم تھی۔ یوں وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ رسول کو مقتدر اعلیٰ ہونا چاہئے اور یہ میں ہوں۔

اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین ( 43 : 53) “ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ بھی ایک اعتراض تھا ، جس کا تعلق اس دنیا کی چمک دمک سے تھا۔ اور عوام پر اثر انداز ہوتا تھا۔ یہ بھی ایک بنا بنایا اعتراض ہے جو ہر رسول پر کیا گیا۔