Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Az-Zukhruf 43:63

43:63
ولما جاء عيسى بالبينات قال قد جيتكم بالحكمة ولابين لكم بعض الذي تختلفون فيه فاتقوا الله واطيعون ٦٣
وَلَمَّا جَآءَ عِيسَىٰ بِٱلْبَيِّنَـٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِٱلْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ ٱلَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ٦٣
وَلَمَّا
جَآءَ
عِيسَىٰ
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ
قَالَ
قَدۡ
جِئۡتُكُم
بِٱلۡحِكۡمَةِ
وَلِأُبَيِّنَ
لَكُم
بَعۡضَ
ٱلَّذِي
تَخۡتَلِفُونَ
فِيهِۖ
فَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَ
وَأَطِيعُونِ
٦٣
イーサーが様々な明証をもってやって来た時言った。「本当にわたしは,英知をあなたがたに齎し,あなたがたが論争することの,多少の部分をあなたがたのために,説き明かすためである。それでアッラーを畏れ,わたしに従え。

— Ryoichi Mita

Khi Ysa đến với những bằng chứng rõ ràng, Y nói: “Quả thật, Ta mang đến cho các người điều khôn ngoan và Ta đến để làm sáng tỏ một vài điểm mà các người bất đồng nhau. Vì vậy, các ngươi hãy sợ Allah và vâng lời Ta.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 43:63 đến 43:65
باب

ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔

پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے ۔

بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ” ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی “۔

صفحہ نمبر8280