Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Az-Zukhruf 43:82

43:82
سبحان رب السماوات والارض رب العرش عما يصفون ٨٢
سُبْحَـٰنَ رَبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ٨٢
سُبۡحَٰنَ
رَبِّ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
رَبِّ
ٱلۡعَرۡشِ
عَمَّا
يَصِفُونَ
٨٢
天と地の主,(大権の)玉座の主,かれらの配するものを(超絶なされる)主に讃えあれ。 」

— Ryoichi Mita

Quang vinh và trong sạch thay Thượng Đế của các tầng trời và trái đất, Thượng Đế của chiếc Ngai Vương, Ngài vượt hẳn những gì chúng đã qui cho Ngài.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 43:81 đến 43:83

آیت نمبر 81 تا 83

یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔

سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین کا فرماں روا ، عرش عظیم کا مالک ان ساری باتوں سے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں ”۔ جب انسان ان آسمانوں اور زمین پر غور کرتا ہے ، ان کے نظام پر غور کرتا ہے ، ان کی رفتار اور آثار کے اندر غایت درجہ ہم آہنگی دیکھتا ہے ، اور اس نظام کے پیچھے جب بلند اور عظیم قوت کی عظمت کو دیکھتا ہے اور پھر اس پورے نظام پر اس کے قبضے اور کنٹرول کو دیکھتا ہے ، جس کی طرف رب العرش کا لفظ اشارہ کرتا ہے تو انسان کے ذہن سے اس قسم کے افسانوی خیالات و خرافات خود بخود محو ہوجاتے ہیں۔ اور یہ غور کرنے والا انسان خود اپنی فطرت کے ذریعہ یہ معلوم کرلیتا ہے کہ ایسی ذات بےمثال ہی ہو سکتی ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی جس طرح مخلوق کی اولاد ہوتی ہے اور نسلیں چلتی ہیں۔ یہ اللہ کے لائق نہیں ہے۔ وہ اس سے پاک ہے۔ اس قسم کے عقائد اس سوچ کے بعد خود بخود لغو نظر آتے ہیں ۔ یہ فضول کلام اور ناجائز جسارت ہے۔ اس لیے کلام کرنا ہی فضول ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

فذرھم یخوضوا ۔۔۔۔۔۔ یوعدون (43 : 83) “ انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جن کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے ”۔ اور وہ دن کیسا ہوگا ، اس کی ایک تصویر تو ابھی انہوں نے دیکھ لی ہے۔

٭٭٭