Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Az-Zumar 39:23

39:23
الله نزل احسن الحديث كتابا متشابها مثاني تقشعر منه جلود الذين يخشون ربهم ثم تلين جلودهم وقلوبهم الى ذكر الله ذالك هدى الله يهدي به من يشاء ومن يضلل الله فما له من هاد ٢٣
ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ ٱلْحَدِيثِ كِتَـٰبًۭا مُّتَشَـٰبِهًۭا مَّثَانِىَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍ ٢٣
ٱللَّهُ
نَزَّلَ
أَحۡسَنَ
ٱلۡحَدِيثِ
كِتَٰبٗا
مُّتَشَٰبِهٗا
مَّثَانِيَ
تَقۡشَعِرُّ
مِنۡهُ
جُلُودُ
ٱلَّذِينَ
يَخۡشَوۡنَ
رَبَّهُمۡ
ثُمَّ
تَلِينُ
جُلُودُهُمۡ
وَقُلُوبُهُمۡ
إِلَىٰ
ذِكۡرِ
ٱللَّهِۚ
ذَٰلِكَ
هُدَى
ٱللَّهِ
يَهۡدِي
بِهِۦ
مَن
يَشَآءُۚ
وَمَن
يُضۡلِلِ
ٱللَّهُ
فَمَا
لَهُۥ
مِنۡ
هَادٍ
٢٣
アッラーはこの上ない素晴しい言葉を,互いに似た(語句をもって)繰り返し啓典で啓示なされた。主を畏れる者は,それによって肌は戦き震える。その時アッラーを讃え唱念すれば肌も心も和ぐ。これがアッラーの御導きである。かれは御心に適う者を導かれる。だがアッラーが迷うに任せた者には,導き手はない。

— Ryoichi Mita

Allah đã ban xuống những Lời nói tốt đẹp nhất: Một Kinh Sách mang đại ý giống nhau và lặp đi lặp lại. Khi nghe Nó, lớp da của những ai sợ Thượng Đế của họ sẽ sởn gai ốc (vì run sợ). Rồi lớp da và trái tim của họ sẽ mềm đi khi nghĩ đến Allah. Đó là nguồn hướng dẫn của Allah, Ngài dùng Nó để hướng dẫn ai Ngài muốn; và ai mà Allah làm cho lầm lạc thì sẽ không có được người hướng dẫn.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 39:22 đến 39:23

آیت نمبر 22 تا 23

جس طرح آسمانوں سے پانی نازل ہوتا ہے ، زمین سے نباتات اگتے ہیں اور ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے ذکر اور نصیحت نازل ہوتی ہے۔ اس ذکر اسے بھی زندہ دل فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان دنوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اچھے کاموں کے لئے بڑھتے ہیں۔ اور جس طرح آسمانوں کی بارش پتھروں پر فصل نہیں اگاتی۔ اسی طرح

سنگدل لوگوں پر ذکر آسمانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان میں کارخیر کی روئیدگی ہوتی ہے اور نہ فکر خیر کی روئیدگی ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے ایسے دلوں کے اندر شرح صدر پیدا کردیتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کے اندر خیر ہے۔ ان تک نور الہٰی پہنچتا ہے تو چمک اٹھتے ہیں اور ان سے زوشنی پھولتی ہے۔ اور شرح صدر والے قلوب اور سنگدل قلوب میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔

فویل للقٰسیة قلوبھم من ذکر اللہ (39: 22) ” تباہی ان لوگوں کے لیے جن کے دل نصیحت سے اور سخت ہوجاتے ہیں “۔

اولٰئک فی ضلل مبین (39: 22) ” وہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ آیت کریمہ ان دلوں کی حقیقت بیان کرتی ہے جو اسلام کے لیے کھل جاتے ہیں ، جو اسلام سے ہدایات لیتے ہیں اور اسلام سے تروتازگی حاصل کرتے ہیں اور اپنے دلوں کا تعلق اللہ سے جوڑتے ہیں۔ ان کی شرح صدر کی حالت سے ان کی تازگی ، ان کے اندر پائی جانے والی بشاشت اور مسرت اور نورانیت اور اشراق کی کیفیات وجود میں آتی ہیں اس کے مقابلے میں یہ آیت ان دلوں کا حال بھی بتاتی ہے جو سخت اور پتھر ہیں۔ جو اپنی خشکی کی وجہ سے مرچکے ہیں۔ بانجھ اور تاریک ہوچکے ہیں۔ غرض اللہ جس کو اسلام کے لیے پسند کرتا ہے اس کا دل اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور اسلام کا نور ان کے دلوں میں داخل ہوجاتا ہے اور جسے محروم کرنا چاہتا ہے اس کا دل سخت کردیتا ہے اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔

دوسری آیت میں یہ بتایا گیا کہ اہل ایمان قرآن کریم کو کس انداز میں لیتے ہیں۔ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی طبیعت اور مزاج میں ، اس کی سمت میں اس کی روح میں ، اس کے خصائص میں ، یہ ان تمام زاویوں سے مشابہ اور مثانی ہے (دہرائی ہوئی) ۔ اس کی آیات کے آخری حصے یعنی مقطعے ، اس کے قصص اور اس کی ہدایات اور اس کے مناظر باربار دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں تضاد نہیں ہوتا۔ ہر جگہ ایک نئے زاویہ سے دہرائے جاتے ہیں اور ہر جگہ نئے لگتے ہیں اور پر جگہ نیا فائدہ ہوتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی ، نہایت سنجیدگی اور مضبوط اصولوں کے مطابق ، جن میں نہ تصادم ہے اور نہ تضاد ہے۔ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام کے مطابق پرہیز کرتے ہیں اور ہر وقت احتیاط میں زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر وقت اللہ کے فضل کے امیدوار ہوتے ہیں۔ وہ قرآن کریم کے باران رحمت کو نہایت خوف اور کپکپی سے لیتے ہیں۔ اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے نفوس کے اوپر سکون کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ان کے دل اس ذکر سے مانوس ہوجاتے ہیں ، پھر ان کے دل نرم ہوکر اس نصیحت کو قبول کرلیتے ہیں۔ یہ ایک زندہ حساس صورت حالات ہے ۔ یہ صورت حالات الفاظ کے رنگ سے منقش ہے اور یہ تصاویر یوں نظر آتی ہیں کہ گویا زندہ ومتحرک ہیں۔

ذٰلک ھدی اللہ یھدی به من یشآء (39: 23) ” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ جس کو چاہتا ہے ، راہ راست پر لے آتا ہے “۔ یہ دل از خود اس طرح کانپ نہیں جاتے بلکہ یہ رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں اور رحمٰن کے فضل وکرم سے وہ لبیک کہتے ہیں اور ان کے اندر نور پیدا ہوجاتا ہے ، اللہ کو تمام قلوب کی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ کسی کو ہدایت دیتا ہے اور کسی کو گمراہی لیکن یہ ان قلوب کی پسند کے مطابق ہوتا ہے۔

ومن یضلل اللہ فما له من ھاد (39: 23) ” اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے “۔ اللہ اس کو اس لیے گمراہ کرتا ہے کہ وہ شخص گمراہی اختیار کرتا ہے اور اللہ کو علم ہوتا ہے کہ اس نے ایسا کرلیا ہے یا کرے گا اور وہ کبھی بھی ہدایت کو قبول نہ کرے گا۔ اور نہ ہدایت کے سامنے سر جھکائے گا۔