Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Az-Zumar 39:29

39:29
ضرب الله مثلا رجلا فيه شركاء متشاكسون ورجلا سلما لرجل هل يستويان مثلا الحمد لله بل اكثرهم لا يعلمون ٢٩
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا رَّجُلًۭا فِيهِ شُرَكَآءُ مُتَشَـٰكِسُونَ وَرَجُلًۭا سَلَمًۭا لِّرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٢٩
ضَرَبَ
ٱللَّهُ
مَثَلٗا
رَّجُلٗا
فِيهِ
شُرَكَآءُ
مُتَشَٰكِسُونَ
وَرَجُلٗا
سَلَمٗا
لِّرَجُلٍ
هَلۡ
يَسۡتَوِيَانِ
مَثَلًاۚ
ٱلۡحَمۡدُ
لِلَّهِۚ
بَلۡ
أَكۡثَرُهُمۡ
لَا
يَعۡلَمُونَ
٢٩
アッラーは一つの比喩を提示なされる。多くの主人がいて互いに争う者と,只一人の主人に忠実に仕えている者とこの2人は比べてみて同じであろうか。アッラーに讃えあれ。だが,かれらの多くは分らないのである。

— Ryoichi Mita

Allah đưa ra hình ảnh thí dụ, một người phục vụ cho nhiều ông chủ gồm những kẻ hợp tác nhưng hay tranh chấp nhau, còn một người chỉ phục vụ cho một ông chủ duy nhất, hai người này có ngang bằng nhau không? Mọi lời ca ngợi và tán dương đều thuộc về Allah! Không, đa số bọn họ không biết gì (nên mới thờ phượng các thần linh ngoài Allah).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 39:27 đến 39:29

آیت نمبر 27 تا 29

اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی جو موحد ہے اور کسی ایسے بندے کی جو مشرک ہے ، یہ مثال دیتا ہے کہ ان کی مثال ہے جیسے ایک غلام ایک شخص کی خالص ملکیت ہو اور دوسرا کئی مختلف الحیال مالکان کے درمیان مشترکہ ہو۔ اس مشترکہ غلام میں مختلف مالکان کے علیحدہ علیحدہ مطالبے ہیں۔ اور یہ بیچارہ انکے درمیان حیران وپریشان ہے۔ کوئی ادھر کھینچتا ہے ، کوئی ادھر۔ وہ اسے کوئی ایک پروگرام نہیں دیتے اور اس بیچارے کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ انکی متضاد فرمائشیں شروع کرسکے کیونکہ وہ اسکے رخ کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور اسکی خواہشات کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور ایک ایک کا غلام یکسو ہے۔ اس کو مالک نے ایک پروگرام دیا ہوا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اسنے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک آقا کا غلام مطمئن ، خوش اور یکسو ہوگا۔

ھل یستویٰن مثلا (39: 29) ” کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے “۔ یقیناً دونوں برابر نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کا ایک آقا ہے وہ آدم ، استراحت ، استقامت اور یقینی پروگرام رکھتا ہے۔ اس کی قوتیں مجتمع ہیں۔ اس کا رخ متعین ہے ۔ اس کی راہ متعین ہے اور جس غلام کے مختلف الحیال آقا ہیں۔ وہ ایک دائمی عذاب میں ہے۔ ایک دائمی کشاکش میں ہے۔ اور ہر وقت قلق وبے چینی میں مبتلا ہے۔ کسی ایک حال پر برقرار نہیں ہے۔ اور اس سے ایک مالک بھی راضی نہ ہوگا ، سب کا راضی ہونا تو محال ہے۔

یہ مثال حقیقت توحید اور حقیقت شرک پر تمام حالات میں منطبق ہے۔ ایک موحدو مومن اس زمین پر اپنا سفر نہایت ہی سیدھے راہ پر علی وجہ البصیرت طے کرتا ہے۔ کیونکہ ان کی نظریں ہمشہ ایک نصب العین پر مرکوز ہیں۔ پوری زندگی ، پوری قوت اور تمام ضروریات اور تمام نفع ونقصان وہ ایک جہت سے طلب کرتا ہے۔ ایک ذات ہے جو اسے روکتی ہے اور ایک ہی ذات ہے جو اسے اجازت دیتی ہے۔ لہٰذا اس کے قدم سیدھے اس ایک سرچشمے کی طرف بڑھتے ہیں۔ وہ اسی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے اور اس کے ہاتھوں میں ایک ہی مضبوط رسی ہے جسے اس کے مضبوطی سے پکڑا رکھا ہے ، ایک ہی ہدف ہے جس پر وہ نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ایک ہی آقا کی وہ خدمت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ میرا آقا کس بات پر راضی ہوتا ہے اور کس پر نازاض ہوتا ہے۔ یوں اس کی قوتیں مجتمع ہوتی ہیں اور یوں وہ پوری قوت کے ساتھ زمین پر کام کرتا ہے۔ اور آسمان پر نظریں جمائے ہوتا ہے۔

اور اس مثال پر تبصرہ الحمدللہ سے کیا جاتا ہے کہ اس نے عقیدۂ توحید کے ذریعے اپنے بندوں کو آرام و اطمینان اور راحت بخشی ہے۔ اور ان کی زندگی کو اثبات وقرار عطا کیا۔ اب اگر وہ اس سے انحراف کرتے ہیں تو وہ لاعلم ہیں۔ یہ ان مثالوں میں ایک ہے جو قرآن نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے دی ہیں تاکہ لوگ حقیقت کو جان سکیں۔ یہ قرآن عربی ہے ، سیدھا ، واضح اور بین ہے۔ اس کے معانی میں کوئی التباس نہیں۔ نہ پیچیدگی اور انحراف ہے اور یہ عوام الناس کو ایک فطری استدلال سے خطاب کرتا ہے ، جو

ان کی سمجھ میں آتا ہے۔