— Ryoichi Mita
— Ruwwad Center
آیت نمبر 35
اس لیے کہ عدل تو یہ ہوگا کہ نیکیوں کا بھی حساب کیا جائے اور برائیوں کا بھی حساب کیا جائے اور پھر دونوں پر سزا وجزاء دی جائے۔۔۔ لیکن اللہ یہاں فضل وکرم کرے گا۔ اللہ اپنے متقی بندوں پر اپنے کرم کی تجلی کرے گا۔ یوں کہ ان کے بہت برے اعمال کو قلم زد کردے گا۔ لہٰذا میزان میں ان کا کوئی حساب نہ ہوگا اور ان کو اجر بھی احسن طریقے سے دے گا ، یعنی ان کے استحقاق سے زیادہ ۔ چناچہ ان کے ترازو میں ان کی نیکیوں کو زیادہ زن دے دیا جائے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہوگا اور یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ جسے چاہے ، یہ فضل دے۔ ہاں اللہ نے اپنے ڈرنے والے بندوں کیلیے یہ وعدہ کردیا ہے لہٰذا ایسا ہی ہوگا اور اہل تقویٰ اس پر مطمئن ہیں۔