Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Fatir 35:3

35:3
يا ايها الناس اذكروا نعمت الله عليكم هل من خالق غير الله يرزقكم من السماء والارض لا الاه الا هو فانى توفكون ٣
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَـٰلِقٍ غَيْرُ ٱللَّهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ ٣
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّاسُ
ٱذۡكُرُواْ
نِعۡمَتَ
ٱللَّهِ
عَلَيۡكُمۡۚ
هَلۡ
مِنۡ
خَٰلِقٍ
غَيۡرُ
ٱللَّهِ
يَرۡزُقُكُم
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
لَآ
إِلَٰهَ
إِلَّا
هُوَۖ
فَأَنَّىٰ
تُؤۡفَكُونَ
٣
人びとよ,あなたがたに対するアッラーの恩恵を念え。天と地からあなたがたに扶養を与えられる創造者が,アッラーをおいて外にあるのか。かれの外には神はないのである。それでもあなたがたはどうして(真理から)迷うのか。

— Ryoichi Mita

Hỡi nhân loại! Các ngươi hãy nhớ ân huệ mà Allah đã ban cho các ngươi. Lẽ nào có một Đấng Tạo Hóa khác Allah đã ban bổng lộc cho các ngươi từ trời đất? Không có Thượng Đế nào ngoài Ngài cả. Vậy sao các ngươi lại lánh xa (điều chân lý)?

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

یایھا الناس ۔۔۔۔۔ فانی تؤفکون (3) اللہ کی نعمتوں کی تو یاد دہانی کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ اس لیے کہ یہ نعمتیں بہت ہی واضح اور کھلی ہیں ، جو ان کو دیکھتے ہیں ، محسوس کرتے ہیں اور چھوتے ہیں ۔ لیکن وہ بھول جاتے ہیں ۔ ان کو یہ نعمتیں یاد نہیں رہتیں ۔

ذرا اس زمین و آسمان اور انسان کو گھیرے ہوئے اس کائنات پر نگاہ دوڑاۂ ، ہر وقت اللہ کے انعامات انسان پر برسارہی ہے ۔

رزق کے دروازے ان پر کھل گئے ہیں ۔ ہر قدم پر ایک نعمت ہے ۔ ہر خظہ میں ایک نیا فیض ہے ۔ آسمانوں اور زمین سے انسان کے لیے سہولیات چلی آرہی ہیں اور یہ اللہ کی طرف سے آرہی ہیں جو وحدہ خالق و رازق ہے ۔ اللہ کا فیض عام ہے اور یہ کس کی طرف سے ہے ؟ سخت سے سخت شرک بھی یہ نہیں کہہ سکتے ۔

کیا ان فیوض دبرکات اور رحمتوں کا نزدل خالق کائنات اللہ کے سوا کوئی اور کررہا ہے ۔ جب اللہ کے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں ہے تو پھر کیوں وہ نصیحت حاصل کرکے شکر الہٰی بجا نہیں لاتے ؟ پھر کیوں وہ اللہ کی حمدوثنا نہیں کرتے اور صرف اسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور بندگی سے منہ موڑتے ہیں ؟ اس کے سوا تو کوئی حاکم نہیں ہے ۔ آخر وہ ایسے خدا پر ایمان لانے سے کیوں منہ موڑتے ہیں جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔

فانی توفکون (35: 3) یایھا الناس ” آخر تم کہاں دھوکہ کھا رہے ہو ؟ “ تعجب انگیز بات ہے کہ ایک ایسے واضح حق اور بین سچائی سے عقل مندلوگ منہ موڑیں جو رات اور دن انہیں رزق بھی دے رہا ہے اور پھر اس سے بڑا تعجب خیز امراد اور کیا ہوگا کہ لوگ رب ذوالجلال کا انکار بھی نہیں کرپاتے اور اس کا اعتراف بھی نہیں کرتے ؟

یہ تین ضربات تھیں ، نہایت ہی قوی اور تیز جو عقل وخرد کی تاروں پر لگائی گئیں اور سورة کا آغاز ہوا تاکہ پوری سورة کے زمزمے کو لوگ توجہ سے سنیں ۔ ہر آیت میں انسان کو جو تعلیم دی گئی ہے وہ انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے اور اس کے شعور میں ایک گہری حقیقت کے طور پر بیٹھ جاتی ہے ۔ یہ تینوں ضربات باہم مربوط اور متناسب ہیں اور مختلف سمتوں سے ایک ہی اثر ڈالتی ہیں ۔