Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Fatir 35:41

35:41
۞ ان الله يمسك السماوات والارض ان تزولا ولين زالتا ان امسكهما من احد من بعده انه كان حليما غفورا ٤١
۞ إِنَّ ٱللَّهَ يُمْسِكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنۢ بَعْدِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًۭا ٤١
۞ إِنَّ
ٱللَّهَ
يُمۡسِكُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضَ
أَن
تَزُولَاۚ
وَلَئِن
زَالَتَآ
إِنۡ
أَمۡسَكَهُمَا
مِنۡ
أَحَدٖ
مِّنۢ
بَعۡدِهِۦٓۚ
إِنَّهُۥ
كَانَ
حَلِيمًا
غَفُورٗا
٤١
本当にアッラーは,天と地の運行が外れないよう支えられる。もしそれら両者が,外れることがあるならば,かれをおいて何ものもこれを支え得るものはない。本当にかれは,我慢強い方,何回も赦される方であられる。

— Ryoichi Mita

Quả thật, Allah nắm giữ các tầng trời và trái đất kẻo chúng sẽ dừng hoạt động. Nếu chúng thực sự dừng hoạt động thì ngoài Ngài chẳng ai có đủ quyền năng nắm giữ chúng (để chúng hoạt động trở lại). Quả thật, Ngài là Đấng Hằng Chịu Đựng, Hằng Tha Thứ.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

ان اللہ یمسک ۔۔۔۔ حلیما غفورا (41) “۔ ذرا اس آسمان پر نگاہ ڈالو ، ذرا زمین کو دیکھو اور ان لاتعداد اربوں اجرام فلکی کو دیکھو جو اس لا انتہا فضا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ تمام کے تمام اپنی جگہ پر رکے ہوئے ہیں جو اپنے افلاک میں پھر رہے ہیں۔ اپنے مدارات میں مقرر ، پھر ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ نہ ان کی رفتار میں کوئی خلل آتا ہے نہ مدار سے نکل سکتے ہیں ، نہ ان کی رفتار سست ہوسکتی ہے ، اور نہ تیز ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کو اس طرح اپنے مقام پر ٹھہرانے کے لیے کوئی ستون نہیں لگا ہوا اور نہ یہ مضبوط رسیوں سے باندھے ہوئے ہیں۔ کسی چیز کا بظاہر ان پر کوئی سہارا نہیں ہے۔ اس عظیم مخلوق کو دیکھتے ہو جو اربوں کھربوں کی تعداد سے زیادہ ہے اور جو نہایت ہی عجیب و غریب ہے۔ ایک عقلمند انسان کی آنکھیں ضرور کھل جانی چاہئیں کہ اس کے پیچھے ایک نہایت طاقتور الٰہ العالمین کا دست قدرت کام کر رہا ہے ، جس نے اس عظیم کارخانے کو تھام رکھا ہے۔

اگر آسمانوں کے یہ ستارے اور زمین اپنی جگہ سے ٹل جائیں اور بےترتیبی سے ادھر ادھر بکھر جائیں تو ان کو کوئی پھر سے مرتب نہیں کرسکتا۔ یہ ہے وہ وقت جب قیامت برپا ہوجائے گی اور اس جہان کے خاتمہ کے لیے قرآن نے اسی نظام کے اختلال کو علامت قرار دیا ہے جہاں پہاڑ اور ستارے روئی کے گالوں کی طرح اڑ جائیں گے اور اس نظام کائنات کی ہر شے دوسری سے ٹکرا جائے گی۔ یہ وہ مقرر وقت ہے جس میں تمام لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا اور دنیا میں جس نے جو عمل کیا اس کا محاسبہ ہوگا۔ دنیا کا انجام عالم آخرت پر ہوگا اور یہ دوسرا جہان اپنے مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے اس دنیا سے بالکل مختلف ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ زمین و آسمان کو تھامے رکھنے پر یہ تبصرہ ہوتا ہے۔

انہ کان حلیما غفورا (35: 41) ” اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے “۔ وہ حلیم ہے۔ لوگوں کو مہلت دیتا ہے ، وہ ان کی بدعملی کی وجہ سے اس جہان کو ختم نہیں کرتا اور اجل مقرر سے قبل ہی ان سے حساب و کتاب لینا نہیں شروع کردیتا۔ لوگوں کو تو بہ کا بھی موقعہ دیتا ہے ، قیامت کی تیاری کی مہلت بھی دیتا ہے اور غفور اس طرح ہے کہ لوگوں نے جو جو جرائم کیے سب پر مواخذہ نہیں کرتا بلکہ اللہ لوگوں کی برائیوں کے ایک بڑے حصے سے درگزر فرماتا ہے۔ جب بھی اللہ ان میں کوئی بھلائی دیکھے تو ان کی مغفرت کردیتا ہے۔ یہ ایک ہدایت ہے جو لوگوں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ اس موقع اور ضرورت کو غنیمت سمجھیں اور اگر یہ فرصت گنوادی تو یہ واپس نہ آئے گی۔