Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Hud 11:108

11:108
۞ واما الذين سعدوا ففي الجنة خالدين فيها ما دامت السماوات والارض الا ما شاء ربك عطاء غير مجذوذ ١٠٨
۞ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُوا۟ فَفِى ٱلْجَنَّةِ خَـٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۖ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍۢ ١٠٨
۞ وَأَمَّا
ٱلَّذِينَ
سُعِدُواْ
فَفِي
ٱلۡجَنَّةِ
خَٰلِدِينَ
فِيهَا
مَا
دَامَتِ
ٱلسَّمَٰوَٰتُ
وَٱلۡأَرۡضُ
إِلَّا
مَا
شَآءَ
رَبُّكَۖ
عَطَآءً
غَيۡرَ
مَجۡذُوذٖ
١٠٨
(その日)幸福な者たちは楽園に入り,あなたの主の御好みによる以外,天と地の続く限り,その中に永遠に住むであろう。限りない賜物である。

— Ryoichi Mita

Còn đối với những người hạnh phúc, họ sẽ ở trong Thiên Đàng, họ sẽ ở trong đó lâu bằng thời gian mà trời đất hãy còn tồn tại ngoại trừ Thượng Đế của Ngươi muốn khác đi, một sự ban thưởng không giới hạn.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
انبیاء کے فرماں بردار اور جنت ٭٭

رسولوں کے تابعدار جنت میں رہیں گے۔ جہاں سے کبھی نکلنا نہ ہو گا۔ زمین و آسمان کی بقا تک ان کی بھی جنت میں بقا رہے گی «إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ» [11-هود:107] ‏ یعنی ” مگر جو اللہ چاہے “ یعنی یہ بات بذاتہ واجب نہیں بلکہ اللہ کی مشیت اور اس کے ارادے پر ہے۔

بقول ضحاک رحمہ اللہ و حسن رحمہ اللہ ”یہ بھی موحد گنہگاروں کے حق میں ہے وہ کچھ مدت جہنم میں گزار کر اس کے بعد وہاں سے نکالے جائیں گے یہ عطیہ ربانی ہے جو ختم نہ ہوگا، نہ گھٹے گا۔ یہ اس لیے فرمایا کہ کہیں ذکر مشیت سے یہ کھٹکا نہ گزرے کہ ہمیشگی نہیں۔‏“

جیسے کہ دوزخیوں کے دوام کے بعد بھی اپنی مشیت اور ارادے کی طرف رجوع کیا ہے۔ سب اس کی حکمت و عدل ہے وہ ہر اس کام کو کر گزرتا ہے جس کا ارادہ کرے۔ بخاری و مسلم میں ہے موت کو چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا اور اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر فرما دیا جائے گا کہ اہل جنت تم ہمیشہ رہو گے اور موت نہیں اور جہنم والوں تمہارے لیے ہمیشگی ہے موت نہیں ۔ [صحیح بخاری:4830] ‏

صفحہ نمبر3924