Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Hud 11:25

11:25
ولقد ارسلنا نوحا الى قومه اني لكم نذير مبين ٢٥
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ ٢٥
وَلَقَدۡ
أَرۡسَلۡنَا
نُوحًا
إِلَىٰ
قَوۡمِهِۦٓ
إِنِّي
لَكُمۡ
نَذِيرٞ
مُّبِينٌ
٢٥
またわれはヌーフを,かれの民に遣わした。(かれは言った。)「わたしはあなたがたへの,公明な警告者である。

— Ryoichi Mita

Quả thật, TA (Allah) đã cử phái Nuh (Nô-ê) đến với người dân của mình, Y nói: “Ta đích thực là một người cảnh báo được phái đến cho các ngươi!”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 11:25 đến 11:27

خدا کے جتنے پیغمبر آئے، اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کریں۔ یہ منصوبہ کہ انسان موجودہ دنیا میں بغرض امتحان رکھا گیاہے۔ یہاں اگر چہ بظاہر مختلف چیزوں کی عبادت کے مواقع ہیں۔ مگر اصل مطلوب صرف یہ ہے کہ انسان خدا کا عابد بنے۔ جو لوگ خدا کے عابد نہ بنیں وہ امتحان میں ناکام ہوگئے ۔ ایسے لوگوں کے لیے مرنے کے بعد کی زندگی میں سخت عذاب ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہی بات کہی۔ وہ اس کے لیے نذیر مبین بن گئے۔ مگر آپ کی قوم نے آپ کی بات نہیں مانی۔

اس کی وجہ لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ انسان کی گمراہی کی نظریاتی طورپر بہت سی قسمیں ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر دور کے انسانوں کی گمراہی صرف ایک رہی ہے۔ اور وہ ہے ظاہر پرستی یا دنیا پسندی۔ دنیا پرست لوگ، عین اپنے مزاج کے مطابق، دنیوی چیزوں کو حق اور ناحق کا معیار سمجھتے ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جس کے پاس ظاہری رونقیں ہوں وہ حق پر ہے اور جو دنیا کی رونقوں سے محروم ہو وہ ناحق پر۔

خدا کا داعی جب اٹھتاہے تو اپنے ہم عصروں کو وہ صرف انسانوں میں سے ایک انسان نظر آتاہے ۔ دنیوی اعتبار سے اس کے گرد وپیش بڑائی کا کوئی خصوصی نشان نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہ ہوتاہے کہ وہ جس دین کا علم بردار ہوتاہے اس کے ساتھ چوں کہ ابھی تک دنیوی فائدے وابستہ نہیں ہوتے، اس لیے اس کی طرف بڑھنے والے زیادہ وہ تہی دست لوگ ہوتے ہیں جنھیں ایک ’’نئے دین‘‘ کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کچھ کھونا نہ پڑے۔ یہ صورت حال خاص طور پر، وقت کے بڑوں کے لیے، فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب دنیا ان کے ساتھ نہیں ہے تو حق بھی ان کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ قوم میں ایسے لوگ بھی نکلتے ہیں جو ان کو جھوٹا اور دھوکا باز کہنے سے بھی دریغ نہ کریں۔