Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Hud 11:40

11:40
حتى اذا جاء امرنا وفار التنور قلنا احمل فيها من كل زوجين اثنين واهلك الا من سبق عليه القول ومن امن وما امن معه الا قليل ٤٠
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمْرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلْنَا ٱحْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّۢ زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ وَمَنْ ءَامَنَ ۚ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٌۭ ٤٠
حَتَّىٰٓ
إِذَا
جَآءَ
أَمۡرُنَا
وَفَارَ
ٱلتَّنُّورُ
قُلۡنَا
ٱحۡمِلۡ
فِيهَا
مِن
كُلّٖ
زَوۡجَيۡنِ
ٱثۡنَيۡنِ
وَأَهۡلَكَ
إِلَّا
مَن
سَبَقَ
عَلَيۡهِ
ٱلۡقَوۡلُ
وَمَنۡ
ءَامَنَۚ
وَمَآ
ءَامَنَ
مَعَهُۥٓ
إِلَّا
قَلِيلٞ
٤٠
遂にわが命令は下って,大地の諸水が堰を切って迸り出た時,われは言った。「すべての生き物の一つがいと,信仰者たちと,あなたの家族で宣告がすでに下された者以外をその中に乗せなさい。」だがかれと共に信仰した者は少なかった。

— Ryoichi Mita

Mãi đến khi lệnh của TA được ban hành với dấu hiệu nước sẽ phun lên từ lò lửa. TA bảo (Nuh): “Ngươi hãy mang lên tàu tất cả mỗi loài vật một cặp (đực và cái) và gia đình Ngươi cùng những người có đức tin, trừ những kẻ mà lời hứa trừng phạt đã định cho chúng.” Tuy nhiên, số lượng những người có đức tin cùng với Y thật quá ít.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اور جب مقررہ وقت آجاتا ہے۔ وہ لمحہ جس کا انتظار تھا تو پھر اس کا منظر کچھ اس طرح ہے :

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ نوح نے کہا سوار ہوجاؤ اس میں ، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اسکا ٹھہرنا بھی ، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔

یہ تنور کس طرح جوش میں آیا ؟ بعض اقوال ایسے ہیں جو تخیلات پر مبنی ہونے کی وجہ سے بہت دور کے نظر آتے ہیں اور بعض کے اندر اسرائیلیات کی بو آتی ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم بغیر کسی راہنمائی کے غیر آباد وادیوں میں گھومنے کے قائل نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم جو خبریں دیتا ہے وہ عالم الغیب کی خبریں ہیں اور اس سلسلے میں اسی حد پر جا کر رک جانا چاہیے ، جس کی تصریح قرآن کریم کرتا ہے اور مدلول نص پر مزید کوئی حاشیہ آرائی نہیں کرنا چاہیے۔

زیادہ سے زیادہ ہم جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ تنور سے فوارہ چھوٹنا ، خصوصاً چلتے ہوئے تنور سے ، یوں ہوسکتا ہے کہ تنور سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑے یا اس کے اندر آتش فشانی کا عمل شروع ہوجائے اور یہ کہ یہ حضرت نوح کے لیے عذاب الہی اور خطرے کی آخری گھنٹی کے طور پر اللہ نے مقرر کیا تھا یا اللہ کے عذاب کی آمد کا یہ ایک حصہ تھا۔ اور بیک وقت زمین سے پانی ابلنا شروع ہوگیا اور آسمان سے موسلا دھار بارش برسنا شروع ہوگئی۔

جب یہ واقعات شروع ہوئے تو اللہ نے حکم دیا کہ :

قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ : " ہم نے کہا ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو "۔ عملی نظام کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت نوح کو ہر مرحلے کے لیے اپنے وقت پر احکام دیے جائیں۔ پہلے کہا کہ تم کشتی بناؤ تو وہ بنانے لگ گئے اور وہاں سیاق کلام میں یہ نہ بتا دیا گیا کہ یہ حکم کیوں دیا جا رہا ہے اور یہ بھی نہ کیا گیا کہ خود حضرت نوح کو اس کی اطلاع کردی گئی ہے۔

حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ : " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو "۔ اور اس کے بعد دوسرے مرحلے کے لیے حکم دیا گیا :

قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ : ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں

اب زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ کے مفہوم میں بھی مفسرین کا اختلاف ہے۔ اور ان میں بھی زیادہ تر اختلاف ذوق ہے اور اسرائیلی رنگ ہے۔ اس لیے ہم اس آیت کے بارے میں بھی خیالی گھوڑے نہیں دوڑاتے کہ نوح نے کس قدر زندہ چیزوں کے جوڑے اپنے ساتھ لیے اور کن کے نہ لیے۔ یہ محض اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والی بات ہے۔

وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ : اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو سنت الہی کے مطابق مستحق عذاب ہوچکے ہیں۔

وَمَنْ اٰمَنَ " اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے " یعنی تمہارے اہل و عیال کے علاوہ جو لوگ ایمان لائے ہیں۔

وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ: " اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے۔

یوں اللہ کا حکم نافذ ہوا اور جن کو ہلاک ہونا تھا ، وہ ہلاک ہوئے۔