Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Hud 11:93

11:93
ويا قوم اعملوا على مكانتكم اني عامل سوف تعلمون من ياتيه عذاب يخزيه ومن هو كاذب وارتقبوا اني معكم رقيب ٩٣
وَيَـٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَـٰمِلٌۭ ۖ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌۭ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَـٰذِبٌۭ ۖ وَٱرْتَقِبُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُمْ رَقِيبٌۭ ٩٣
وَيَٰقَوۡمِ
ٱعۡمَلُواْ
عَلَىٰ
مَكَانَتِكُمۡ
إِنِّي
عَٰمِلٞۖ
سَوۡفَ
تَعۡلَمُونَ
مَن
يَأۡتِيهِ
عَذَابٞ
يُخۡزِيهِ
وَمَنۡ
هُوَ
كَٰذِبٞۖ
وَٱرۡتَقِبُوٓاْ
إِنِّي
مَعَكُمۡ
رَقِيبٞ
٩٣
人びとよ,あなたがたは自分のやり方で行うがよい。わたしもまた(わたしの務めを)行うであろう。やがてあなたがたは知ろう。誰に恥ずべき懲罰が下るのか,また誰が偽ったのかを。 あなたがたは待て,わたしもまたあなたがたと共に待つものである。」

— Ryoichi Mita

“Hỡi người dân của Ta! Các ngươi hãy cứ làm công việc của các ngươi, còn Ta sẽ làm công việc của Ta. Rồi đây các ngươi sẽ biết ai sẽ bị sự trừng phạt hạ nhục y và ai sẽ là kẻ nói dối. Các ngươi hãy chờ xem, Ta cũng chờ xem (kết quả) cùng với các ngươi.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ (92 : 11) “۔ ” تم اپنے راستے اور اپنے منصوبے پر عمل کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ اب میں نے تم سے اپنے ہاتھ جھاڑ لیے ہیں۔

إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (11 : 93) “ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدی ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ ”

تم اپنے طریقے پر کام کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ عنقریب تمہیں اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور ہمیں اپنا۔ نیز جو عذاب تمہارے انتظار میں ہے اس کے لیے انتظار کرو۔ (اِرْتِقوا) میں انہیں جو انتظار کا مشورہ دیا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کے دل میں پورا یقین تھا کہ عذاب آنے والا ہے۔ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان سے مکمل جدائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔

اب اس منظر کا پردہ گرتا ہے۔ یہ منظر نظروں سے اوجھل ہونے سے پہلے ایک آخری بات یعنی حق و باطل کی مکمل جدائی کی بات کی جاتی ہے دوسرا منظر اب اس قوم کی مکمل تباہی کا منظر ہوگا۔ اس منظر میں یہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہیں۔ ان کو ایسی کڑک نے آ لیا جیسے قوم صالح (علیہ السلام) پر آئی تھی۔ چناچہ دونوں کا انجام ایک جیسا تھا۔ ان کے محلات خالی پڑے تھے گویا کبھی یہاں کوئی بستا ہی نہ تھا گویا کبھی یہ محلات تعمیر ہی نہ ہوئے تھے یہ لوگ بھی قوم صالح (علیہ السلام) کی طرح تاریخ کا حصہ بن گئے اور ابدالاباد تک ملعون ٹھہرے۔ جس طرح ان کا وجود اس کرہ ارض سے لپیٹ لیا گیا۔ اسی طرح صفحات تاریخ سے ان کا ذکر بھی مٹا دیا گیا۔