Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ibrahim 14:23

14:23
وادخل الذين امنوا وعملوا الصالحات جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها باذن ربهم تحيتهم فيها سلام ٢٣
وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَـٰمٌ ٢٣
وَأُدۡخِلَ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
جَنَّٰتٖ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُ
خَٰلِدِينَ
فِيهَا
بِإِذۡنِ
رَبِّهِمۡۖ
تَحِيَّتُهُمۡ
فِيهَا
سَلَٰمٌ
٢٣
信仰して善い行いに励む者は,かれらの主の御許しの許に,川が下を流れる楽園に入り,永遠にその中に住むことになる。そこでかれらの受ける挨拶は,「平安あれ。」であろう。

— Ryoichi Mita

Những người có đức tin và hành thiện sẽ được vào Thiên Đàng, bên dưới có các dòng sông chảy, họ sẽ sống trong đó mãi mãi theo sự cho phép của Thượng Đế của họ; lời chào của họ ở nơi đó sẽ là Salam (chào bình an).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت نمبر 23

اب پردہ گرتا ہے۔۔۔ کیا ہی خوبصورت منظر ہے۔ دعوت اسلامی اور داعیوں اور جھٹلانے والوں اور سرکش ڈکٹیٹروں کی یہ کیا ہی خوبصورت کہانی ہے۔

ذرا پیچھے اس کہانی کے تمام مناظر پر دوبارہ نگاہ ڈالیں اور اس فضا کو ذہن میں رکھیں۔ پہلے منظر میں تحریک اسلامی اور جاہلیت کا مقابلہ اس کرۂ ارض پر دکھایا گیا۔ رسولان کرام کا گروہ سرکشوں کے مقابلے میں کھڑا تھا۔

واستفتحوا ۔۔۔۔۔ جبار عنید (15) من ورائہ ۔۔۔۔۔ صدید (16) یتجرعہ ولا۔۔۔۔۔۔ عذاب غلیظ (17) ( 14 : 15 تا 17) “ انہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں ان کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی ، پھر اس کے بعد آگے اس کے لئے جہنم ہے۔ وہاں اسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا ”۔

پھر آخرت کے اسٹیج پر بھی ہم نے ابھی ابھی وہ انوکھا منظر دیکھ لیا ہے۔ یہ سرکش ڈکٹیٹروں ، جابر بٹے ہوئے لوگوں اور خود شیطان کے عجیب مکالمے پر مشتمل تھا۔ اس بہترین قصے کی فضا میں اور نیک لوگوں کے اچھے انجام اور برے لوگوں کے برے انجام کے ان مناظر کے بعد اب اللہ تعالیٰ اچھی باتوں اور صحیح نظریہ حیات اور بری باتوں اور برے فلسفوں کی مثال دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں نیک و بد اور طیب و خبیث کی کشمکش انسان کی پوری زندگی میں جاری رہتی ہے۔ گویا ایک قصے کے خاتمے اور پردہ گرجانے کے بعد اب اس پوری کہانی پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔