Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ibrahim 14:42

14:42
ولا تحسبن الله غافلا عما يعمل الظالمون انما يوخرهم ليوم تشخص فيه الابصار ٤٢
وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَـٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍۢ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَـٰرُ ٤٢
وَلَا
تَحۡسَبَنَّ
ٱللَّهَ
غَٰفِلًا
عَمَّا
يَعۡمَلُ
ٱلظَّٰلِمُونَۚ
إِنَّمَا
يُؤَخِّرُهُمۡ
لِيَوۡمٖ
تَشۡخَصُ
فِيهِ
ٱلۡأَبۡصَٰرُ
٤٢
不義を行う者を,アッラーは疎かになされると考えてはならない。かれは(恐れのために)目が坐る日まで,かれらに猶予を与えられるだけである。

— Ryoichi Mita

(Hỡi Thiên Sứ Muhammad!) Ngươi đừng bao giờ nghĩ rằng Allah không để ý đến những việc làm xấu xa của những kẻ sai trái. Thật ra, Ngài chỉ tạm tha cho chúng đến Ngày mà những con mắt sẽ mở to nhìn (trong nỗi sợ hãi và kinh hoàng).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 14:42 đến 14:43

آیت نمبر 42 تا 43

رسول اللہ ﷺ اللہ کو ظالموں کے اعمال سے غافل نہ سمجھتے تھے۔ لیکن بظاہر یہ بات نظر آتی تھی کہ لوگ دیکھتے تھے کہ ظالم عیش کر رہے ہیں۔ اللہ کی دھمکیاں سن رہے ہیں ، دنیا کی زندگی گزر رہی ہے اور ان ظالموں کو اللہ کا کوئی عذاب اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ یہ انداز کلام اختیار کرتے ہیں تا کہ یہ یقین کرلیا جائے کہ یہ لوگ اپنے لیے متعین مہلت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آخر میں اللہ ایسے لوگوں کو وقت آنے پر پکڑتا ہے اور اس کی پکڑ ایسی ہوتی ہے کہ پھر اس سے کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ وہ ایسا سخت دن ہوگا جس میں ان کی نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ نہایت جزع و فزع کی حالت میں ہوں گے۔ آنکھیں کھلی ہوں گی لیکن ان کے حواس مبہوت ہوجائیں گے اور ان کو کچھ نظر نہ آئے گا۔ اس قدر خوف ہوگا کہ ان کی نظر جہاں جم گئی جم گئی اور پھر اس ہولناک دن میں پوری قوم کی حالت یوں ہوگی کہ وہ بھاگے بھاگے پھریں گے۔ کسی چیز کی طرف ان کا دھیان نہ ہوگا۔ کسی چیز کی طرف التفات نہ ہوگا۔ سر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوراً ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ کسی بھی منظر پر جب ان کی نظر اٹھ کر جم جائے گی تو اس سے ہٹا نہ سکیں گے اور نظر وہیں ٹک جائے گی۔ ان کے دل ہوا ہوں گے ، اڑے اڑے پھر رہے ہوں۔ نہ کچھ یاد ہوگا ، نہ کوئی حجت و دلیل ہوگی نہ کوئی تدبیر ہوگی۔

یہ ہے وہ دن جس کی طرف اللہ ان کو موخر کر رہا ہے۔ اس طرح یہ اس میدان میں کھڑے ہوں گے ، نہایت خوفزدہ۔ آیت کے ان چار ٹکڑوں میں ان کی حالت یہ نظر آتی ہے جس طرح ایک طاقتور باشے (باز) کے پنجوں میں ایک نہایت ہی چھوٹا پرندہ پھنس جاتا ہے اور وہ اسے دبوچ لیتا ہے۔ ذرا دوبارہ پڑھیں :

انما یوخرھم ۔۔۔۔۔ الابصار (42) مھطعین ۔۔۔۔۔ وافئدتھم ھواء (43) (14 : 42- 43) اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے۔ اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں ، سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں ، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں ”۔

سر اٹھائے تیز تیز بھاگنا ، یوں کہ نظریں آسمانوں پر جمی ہوں اس طرح کہ ٹکٹکی بندھ گئی ہو ، اور دل کی حالت یہ ہو کہ وہ ہوا کی طرح اڑ رہا ہے اور کچھ سمجھ میں نہ آرہا ہو ، تو یہ ایسی حالت جس میں انتہائی خوف ظاہر کیا گیا ہے ، جس میں انسان کی نظر ایک جگہ ٹک جاتی ہے۔

یہ دن جس کی طرف اللہ ان کو لے جا رہا ہے اور اس مہلت کے ختم ہونے کا وہاں ان کا انتظار ہو رہا ہے ، تو اے پیغمبر ، ان لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس میں کوئی عذر قبول نہ ہوگا اور کوئی صورت چھٹکارے کی نہ ہوگی۔ چناچہ اس خوفناک دن کا ایک دوسرا منظر لایا جاتا ہے۔